امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
حضرت امام علی علیه السلام کی حکومت میں عرب و عجم میں مساوات

حضرت امام علی علیه السلام کی حکومت میں عرب و عجم میں مساوات

اس روایت کے مطابق عصر ظہور میں لوگوں کے درمیان عدل و مساوات قائم ہو گا ، اسی طرح عالمِ هستی کے پہلے مظلوم امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے دور حکومت میں بھی تمام لوگوں کے درمیان عدل و مساوات قائم تھا۔

امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: جان لو ! عثمان نے  جو بھی معاہدے کئے اور بخشش دی اور خدا کے مال سے جو کچھ بھی لوگوں کو دیا ہے، وہ سب بیت المال میں واپس آ جائے گا ۔ کیونکہ قدیم  حق کو کوئی چیز باطل نہیں کر سکتی۔ اگر میں دیکھوں کہ اس مال سے کسی نے شادی کی ہے یا اسے مختلف شہروں میں خرچ کیا گیا ہے، تو میں اسے اس کی جگہ واپس کروں گا؛ کیونکہ عدالت کاموں کو آسان کرتی ہے، اور جس کے لئے عدالت سخت اور مشکل ہے، اُس پر ظلم اور بھی زیادہ سخت ہوگا۔

دو خواتین آنحضرت کے پاس آئیں اور  بیت المال سے دونوں کو برابر حصہ دیا گیا۔ ان میں سے ایک نے کہا: میں ایک عرب عورت ہوں اور یہ عورت عجمی ہے!

حضرت نے فرمایا: میں اسماعیل کی اولاد کو اسحاق کی اولاد سے زیادہ حق دار نہیں سمجھتا۔

کچھ لوگ امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے اس طرز عمل سے ناراض ہوئے۔ عمرو عاص نے معاویہ کو لکھا: اگر تم کچھ کر سکتے ہو تو کرو...۔

اور کچھ لوگ مخفیانہ طور پر دوسروں کو عرب اور عجم کے درمیان مساوات پر اعتراض کرنے کی دعوت دیتے رہے۔ جب یہ بات حضرت تک پہنچی تو آپ نے تلوار کمر سے باندھی اور منبر پر جا کر فرمایا:ہمارے یہاں کوئی بھی کسی پر برتری نہیں رکھتا مگر خدا اور رسول کی اطاعت کے ذریعے...۔

خداوند تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے :

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ . [1]

اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دیئے ہیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو بیشک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگارہے ۔

پھرآپ نے باآواز بلند فرمایا :

قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ ۖ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ. [2]

کہہ دیجئے کہ خدا اور رسول کی اطاعت کرو کہ جو اس سے روگردانی کرے گا تو خدا کافروں کو ہرگز دوست نہیں رکھتا ہے ۔

امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے ابتدائی دنوں سے ہی اپنا بنیادی قانون واضح کر دیا تھا کہ  لوگوں کے درمیان حقوق اور عدل کی برابری ہو ۔ ان کا معاشی نظام یہ تھا کہ بیت المال میں تمام گروہوں کے لئے مساوات ہو، اور ان کا سماجی نظریہ یہ تھا کہ اسلام میں کمتر یا برتر، سرخ یا سیاہ، عرب یا عجم کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ سب سے محترم وہ ہیں جو سب سے زیادہ متقی اور پرہیزگار ہوں۔[3]

 


[1] ۔ سوره حجرات، آيت :۱۳.

[2] ۔ سورۂ آل عمران ، آیت : ۳۲.

[3] ۔ پيشواى علم و معرفت:۴۲۸.

بازدید : 3