حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
نپولین کو دندان‏ شكن جواب

نپولین کو دندان‏ شكن جواب

نپولین اوّل اکثر رات کو  اپنے فوجی کیمپوں میں بھیس بدل کر جاتا تھا اور اپنے سپاہیوں کی خیریت دریافت کرتا تھا۔ اس کے ایک سفر کے دوران ایک سپاہی لاپتہ تھا۔ اس نے ایک جرمن کی خدمات حاصل کیں اور اس کی جگہ ایک فرانسیسی فوجی کو تعینات کر دیا۔ چونکہ اسے نپولین کی حالت کا علم تھا ، اس لئے اس نے محتاط انداز میں بدلے ہوئے سپاہی سے کہا: اگر کوئی تمہارے پاس آکر تم سے یہ سوال کرے تو یہ جواب دو ۔ اس سپاہی کو  بالکل بھی فرانسیسی زبان نہیں آتی تھی ، لہذا اس نے اسے اتنا سکھایا تھا: پہلے کہو: فلاں شہر سے، پھر کہو: بیس،  اور تیسری مرتبہ کہو: دو سال، اور چوتھی مرتبہ کہو: دونوں۔ چونکہ نپولین اکثریہی چار چیزیں  پوچھتا تھا کہ تم کس صوبے سے ہو؟سپاہی کہتا تھا: فلاں شہر سے،  پھر وہ پوچھتا تھا کہ تمہاری عمر کتنی ہے؟ تیسرا  سوال یہ ہوتا تھا کہ تم فوج میں کتنے سال سے ہو؟ اور چوتھا سوال یہ پوچھتا تھا  کہ تمہیں کتنی مرتبہ تنخواہ ملتی ہے؟ اتفاق سے ایک رات گشت کے دوران اس کا اس گروہ سے سامنا ہوا اور اتفاق سے اس متبادل سپاہی کی باری آئی اور وہ  ان چند الفاظ کے علاوہ فرانسیسی زبان  سے واقف نہیں تھا ۔

جب نپولین اس کے پاس پہنچا تو وہ  اس نے سوالوں کی ترتیب بدل دی ۔ پہلے اس نے پوچھا کہ تم کس شہر سے ہے؟ اس نے کہا: فلاں شہر سے۔ پھر اس نے پوچھا کتنے سال سے نوکری کر رہے ہو ؟اس نے کہا: بیس سال سے۔ تیسرا سوال  پوچھا کہ تمہیں پیدا ہوئے کتنے سال ہو گئے؟ اس نے کہا : دو سال۔ نپولین ہنس پڑا، اور اسے یہ پتہ چل گیا کہ وہ ایک متبادل ہے۔ اس نے چوتھا  سوال پوچھا: میں پاگل ہوں یا تم؟  اس نے کہا: دونوں۔ نپولین  بہت ہنسا اور کچھ نہیں بولا۔ اگلے دن اس نے افسر کو بلایا اور  یہ معلوم ہو گیا کہ وہ ایک متبادل تھا۔ اس نے کہا: اس سپاہی کے آخری جواب کی وجہ سے میں نےتمہیں  معاف کر دیا ۔[1]

اب اس نکتے پر غور کریں: جو شخص نہ صرف اپنی قوم و ملت سے بلکہ اپنے چند سپاہیوں سے بھی گفتگو کر کے اور ان کے دکھ درد کو نہیں سمجھ سکتا تو وہ کس طرح  ان کے حال سے باخبر ہو سکتا ہے اور  ان پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کو ختم کر سکتا ہے اور انہیں سکون اور تحفظ فراہم کر سکتا ہے؟! اس لئے کوئی ایسی عظیم آسمانی طاقت ہونی چاہئے جو الٰہی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف تمام انسانوں سے بات کر سکے بلکہ جانوروں کی زبان بھی سمجھ سکے اور ان سے بات کر سکے، انہیں حکم دے، ان پر اثر انداز ہو سکے اور تبدیلی لا سکے۔

جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ وہ طاقت جو پوری کائنات  پر حاکم ہے اور ہر چیز پر ولایت، سرپرستی اور آگاہی رکھتی ہے وہ صرف خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام کے پاس ہے  ، لہذا حضرت بقيّة الله الاعظم ارواحنا فداه کے دست قدرت اور امیر المؤمنین علیہ السلام کی ذوالفقار  سے پوری دنیا میں امن قائم ہو گا۔

 


[1] ۔ گلزار اکبری : ۴۸۵.

مراجعین : 72