زرعی ترقی
یہ ظاہر ہے کہ بارشوں کی کثرت سے دنیا کے تمام صحرا اور بیابان سرسبز ہو جائیں گے جس سے زراعت میں بھی بہت ترقی ہو گی۔
اب ہم اس نکتے کو واضح کرتے ہیں کہ حضرت بقية الله الأعظم ارواحنا فداه کے پرشکوہ دور میں زراعت کے شعبہ میں کیسے ترقی ہو گی :
اہلبیت علیہم السلام کے فرامین پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح زمینیں پھولوں اور پودوں کی نشوونما کے اعتبار سے مختلف ہیں اور پودوں کی نشوونما کے لئے ان میں مختلف توانائیاں پائی جاتی ہیں ، اسی طرح زمین پر ہونے والی بارشیں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔سال کے مختلف اوقات میں نہ صرف بارشیں فائدے اور نقصانات کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں بلکہ بارشوں کے دورانیہ کے علاوہ ان کی اقسام بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔
خاندان وحی علیہم السلام کے فرمودات سے ہمیں یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ بارش کی ایک خاص قسم بہت بابرکت ہوتی ہے جو پودوں اور درختوں کی نشوونما میں حیرت انگیز اثرات مرتب کرتی ہے۔ بدقسمتی سے خدا نے لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے کئی صدیوں سے انسانوں اور دیگر مخلوقات کو اس قسم کی بارش سے محروم رکھا ہے۔ جب پوری دنیا ولی خدا حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے تابناک نور سے منور ہو گی اور دنیا کے لوگوں پر رحمت الٰہی کا سایہ ہو گا تو اس باران رحمت سے پوری دنیا سرسبز و شاداب ہو جائے گی اور درختوں پر ایسے پھل لگیں گے جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے ہوں گے،ہر طرف پھولوں اور پودوں کی کثرت ہو گی۔بعض روایات میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ ایک بیج سے سات سو دانے نکلیں گے۔ اس بنا پر ایک بوری گندم کا بیج بونے سے گندم کی سات سو بوریاں حاصل ہوں گی ۔
نیز خداوند کریم اس آیۂ شریفہ میں ظہور کے دور کی عظمت کے بارے میں فرماتا ہے: وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ۔ [1] خدا جس کے لئے چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے۔
لہذا زراعت کے شعبہ میں پیداوار میں سات سو گنا اضافہ زمین سے حاصل ہونے والی فصل کی آخری حد نہیں ہے، بلکہ یہ اس کی معمولی حد ہے۔
ان مطالب پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہور کے زمانے میں زمین اس طرح ذرخیر ہو جائے گی کہ زرعی مصنوعات کی فراوانی کے نتیجے میں یہ حیرت انگیز حد تک سستی ہو جائیں گے۔ یہ ظہور کے شاندار دور کے تحفوں میں سے ایک چھوٹا سا تحفہ ہے ۔ یہ ظاہر ہے کہ زراعت کی ترقی اور اچھی فصل عالمی اقتصادی منڈی کا ایک اہم سہارا ہے۔ ظہور کے خوشحال دور میں عالمی معیشت کی حالت ایسی ہو گی کہ دنیا میں کہیں غربت کا نام و نشان نہیں ہو گا۔ اس حد تک معاشی ترقی صرف زراعت کی ترقی سے وابستہ نہیں ہے بلکہ اسے معاشی ترقی کا ایک عامل سمجھا جا سکتا ہے۔








