حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
با بركت پیسے

با بركت پیسے

عالم ربّانى، مفسّر قرآن، حجّة الاسلام والمسلمين جناب ‏ حاج سيد حسن دُرافشان حضرت بقيّة الله الأعظم امام زمانہ ‏ارواحنا فداه کی خدمت میں شرفیاب ہوئے۔ اب ہم ان کے بابرکت پیسوں کا واقعہ بیان کرتے ہیں :

حاج سید حسن دُرافشان نے فرمایا: میں ایک سفر میں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی نیابت میں خانۂ خدا کی زیارت کے لئے مشرف ہوا،تو میں نے اپنے دوست ’’حاج بمان‘‘کے ساتھ یہ شرط  رکھی کہ اس سفر میں انہیں جو کچھ کہوں گا، وہ وہی کریں گے،اور وہ جو کچھ کہیں گے ، میں اس پر عمل کروں گا۔

جدہ میں، میں نے حاج بمان سے کہا: میں سفر کا سامان لایا ہوں،آپ جا کر قند (چینی) لے آئیں تاکہ میں چائے بنا لوں۔میں نے چائے بنائی، اور اسی دوران میرے دل میں خیال آیا:کیا میرے پاس جو تین سو تومان ہیں، وہ اس سفر کے اخراجات کے لئے کافی ہوں گے یا نہیں؟

اسی لمحے سامنے والے کمرے میں ایک شخص ظاہر ہوا اور اس نے  سلام کیا۔میں نے عرض کیا: تفضّل مولاى! آقا تشریف لائیں!وہ تشریف لائے اور میرے بائیں جانب بیٹھ گئے اورمیرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:’’ ثلاثمأة تومان يكفيك ‘‘یعنی تین سو تومان تمہارے لئے کافی ہوں گے۔

میں نے فارسی میں ایک ایسی بات کہی جو مناسب نہیں تھی، کیونکہ میں اس وقت اس بزرگ ہستی کو پہچان نہ سکا۔حضرت مسکرائے  اور فارسی میں فرمایا:تمہارے لئے تین سو تومان کافی ہوں گے، اور جو کوئی بھی کچھ مانگے، اس کو اسی رقم میں سے دے دینا۔

میں نے ان سے عرض کیا: چائے نوش فرمائیں۔فرمایا: نہیں اور تشریف لے گئے۔

میں نے سوچا: یہ کون تھے؟میں اٹھا اور دروازے پر گیا، لیکن وہ نظر نہ آئے۔تب میں رونے لگا۔

اسی دوران حاج بمان آ گئے اور انہوں نے پوچھا: تم کیوں رو رہے ہو؟میں نے کہا: یہ رونے کا ہی مقام ہے۔یہ کہہ کر میں نے  ان سے یہ واقعہ چھپا لیا۔

پھر میں مکہ گیا اور خدا کے فضل سے خانۂ خدا کا طواف اور دیگر اعمال انجام دیئے۔

مقام ابراہیم علیہ السلام پر نماز ادا کرنے کے بعدمیں نے دیکھا کہ ایک شخص میرے برابر میں بیٹھا ہے،
اور ہم آپس میں نماز کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔اسی دوران میں نے سنا کہ میرے ایک ساتھی نے آواز دی:آقا دُرافشان! میں نے پیچھے مڑ کر آواز دینے والے کو دیکھا،مگر وہ رکوع کی حالت میں تھا۔جب میں نے دوبارہ مڑ کر دیکھا  تو میرے برابر کوئی موجود نہ تھا۔

اس سفر میں مجھے دو بار امام عصر ارواحنا فداہ کی خدمت میں شرفیاب ہونے کا موقع ملا،لیکن بدقسمتی سے دونوں بار میں اُس بزرگوار کو پہچان نہ سکا۔

جب میں خانۂ خدا کی زیارت کے لئے مشرف ہواتو ’’جبل‌ المشرق‘‘ میں قیام کیا۔اسی گھر میں شور و غل اور چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگیں ، کیونکہ تین افراد نے وہ گھر کرائے پر لیا ہوا تھا۔میں گھر سے باہر آ گیا اور وہاں موجود ایک تخت پر بیٹھ گیا۔

اسی دوران میں نے دیکھا کہ حاج رضا علاف رحمۃ‌ الله‌ علیہ وہاں آئے،اور کہنے لگے: میں اپنی بی‌بی  کو غیر قانونی طور پر  مکہ  لایا ہوں، اور اب میرے پاس پیسے ختم ہو چکے ہیں۔

میں نے سوچا:آقا درافشان میرے قرائت قرآن  کے استاد ہیں، میں اُن سے مشورہ کرتا ہوں۔لیکن فی الحال تو مجھے خود پیسے کی ضرورت ہے۔

مجھے امام علیہ السلام کی بات یاد آئی، میں نےپوچھا:آپ کو کتنے پیسے چاہئیں؟ انہوں نے کہا: پانچ سو تومان۔ میں نے اپنے بٹوے سے پانچ سو تومان نکال کر انہیں دے دیئے ۔

اس کے بعد’’حاج میر اسدالله رحمۃ اللہ علیہ‘‘ آئے اور کہنے لگے: میں طواف کے لئے گیا تھا، میرے پیسے چوری ہو گئے۔ میں نے کہا: جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ ہم مل کر  کھائیں گے۔ انہوں نے کہا: نہیں، مجھے کچھ پیسے چاہئیں۔ میں نے پوچھا: کتنے پیسے چاہئیں؟ انہوں نے کہا: مجھے چھ سو تومان چاہئیں۔ میں شیرازیوں سے لے کر آپ کو واپس دے دوں گا۔ میں نے بٹوے سے چھ سو تومان نکال کر انہیں دے دیئے۔

اس سفر میں میں نے ایک سو  دس ریال قربانی کے لئے دیئے اور سفر کے تمام اخراجات اسی رقم سے پورے ہوئے۔ اعمال حج  کی ادائیگی کے بعد میں مدینہ گیا۔ مدینہ میں زیارت کے بعد، میں نے کفن کے لئے بُرد یمانی خریدا اور دیگر اشیاء بھی اسی رقم سے خریدیں۔ مدینہ طیبہ سے جدہ روانہ ہوئے۔ وہاں ’’حاج حسن پوربداخشان‘‘ نے فرمایا: جو بھی میرے ساتھ کربلا آنا چاہئے  تو  میں اسے کربلا لے جاؤں گا ، چاہئے کربلا جانا چاہئیں یا تہران ، میرے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو بھی میرے ساتھ آنا چاہے، اُسے ڈیڑھ سو  تومان دینے ہوں گے ۔ میں نے اُسی رقم میں سے انہیں ڈیڑھ سو تومان دے دیئے، اور ہم عراق روانہ ہوئے۔ وہاں ہمیں بتایا گیا کہ یہاں کا کرایہ آپ کو خود ادا کرنا ہوگا۔ہم کربلا سے نجف گئے، اور محلہ  ’’حوش‘‘ میں اپنے چچا زاد بھائی کی خدمت میں مشرف ہوئے۔

میں نے پوچھا: آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ انہوں نے فرمایا: طبیعت تو ٹھیک ہے، لیکن میرے لئے پیسے نہیں آئے اور میں قرض دار ہو گیا ہوں۔ میں نے پوچھا: کتنے پیسے درکار ہیں؟ انہوں نے فرمایا: تین سو تومان۔ میں نے انہیں بھی تین سو تومان دے دیئے۔

زیارت کے بعد ہم ان کے ساتھ آیت اللہ حکیم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور میں نے اسی رقم میں سے کچھ حصہ بطور ’’سہم امام‘‘ ان کی خدمت میں پیش کیا اور رسید حاصل کی۔

صحن مطہر میں میری ملاقات ’’حاج غلام علی رضائیان تربتی‘‘ سے ہوئی؛ انہوں نے کہا: میرے ایک ساتھی کے پیسے ختم ہو گئے ہیں، مجھے دو سو تومان دے دیں، میں مشہد میں آپ کو واپس کر دوں گا۔ میں نے انہیں بھی دو سو تومان دے دیئے۔

نجف سے ہم کربلا گئے۔’’حاج علی اکبر زابلی مقدم‘‘کی والدہ کی ایک بیٹی تھی جو ’’حبیب‘‘ نامی شخص کے عقد میں تھیں۔ ان دونوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔

انہوں نے کہا: ’’اشرف‘‘ کو طلاق دے دی گئی ہے اور وہ غیر قانونی طور پر ایران جانا چاہتی ہے، اسے پیسوں کی ضرورت ہے۔ میں نے پوچھا: کتنے پیسے درکار ہیں؟ کہا: تین سو تومان چاہئیں تاکہ وہ غیر قانونی طریقے سے لوگوں کو ایران لے جانے والے شخص کو دے دیں ۔ میں نے انہیں بھی تین سو تومان دے دیئے۔

میں حضرت امام ہادی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی زیارت کے لئے جانا چاہتا تھا۔ زیارت سے واپسی پر میں نے دیکھا کہ ایک دوست کی بیوی رو رہی ہے۔ میں نے کہا: حاجیہ بی بی! آپ کیوں رو رہی ہیں؟ کہنے لگی: میرے پیسے ختم ہو گئے ہیں، میں نے اپنی چین بیچنے کے لئے دی ہے۔ مشہد میں یہ مجھے سات سو تومان کی ملی تھی، لیکن یہاں تین سو تومان سے زیادہ کوئی خریدنے کو تیار نہیں۔ میں نے پوچھا: آپ کو کتنے پیسوں کی ضرورت ہے؟ کہا: سو تومان ۔ میں نے انہیں بھی سو تومان دے دیئے ۔

’’ حاج على آقا علاف‘‘ کی بیٹی نے مجھ سے کہا : مجھے سو  تومان بطور قرض  دے دیں ۔ میرا شوہر مشہد میں آپ کو دے دے گا ۔ میں نے سو تومان انہیں بھی دے دیئے ۔

خلاصہ یہ کہ اس سفر میں جس کسی نے جتنی رقم مانگی، میں نے امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی برکت سے اسے ادا کر دی۔مشہد واپس آنے کے بعد میں نے اپنے بیٹے آقا سید حسین سے پوچھا: تم پر کوئی قرض ہے؟ اس نے کہا: چار سو تومان۔ میں نے کہا: خدا امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے خزانے میں برکت دے، اور میں نے وہ رقم اسے دے دی، اور پورا واقعہ بھی سنایا۔ اس کے بعد مجھے ان پیسوں میں سے کوئی رقم نظر نہ آئی۔[1]

ہم نے یہ جو واقعہ بیان کیا ہے ،یہ  بابرکت پیسوں کی ایک مثال ہے ، جب تک ان کا راز فاش نہ ہوا،ان کی برکت جاری و ساری رہی ۔لیکن ظہور کے پرشکوہ دور کے بارے میں امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:حضرت امام مهدی عجل الله تعالٰی فرجه الشریف تمام رازوں کا خاتمہ کر دیں گے، اور ہر چیز واضح و آشکار ہو جائے گی۔ چونکہ اس وقت کوئی راز باقی نہیں رہے گا تو پھر اسے فاش کرنے کا  سوال ہی پیدا   نہیں ہوتا ۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ظہور کے زمانے میں برکت اُن اہم چیزوں میں سے ایک ہو گی جو لوگوں کی معنوی و روحانی ترقی اور ایمان میں افزائش کا سبب بنے گی۔

 


[1] ۔ شيفتگان حضرت مهدى عجّل الله تعالى فرجه الشريف: ۳/ ۱۶۷.

مراجعین : 26