ایرانیوں کا اسلام قبول کرنا عمر کے مرہونِ منت نہیں
سلمان فارسی کے شایستہ اور خوبصورت کردار، اور اہلِ مدائن کی اسلام کے لئے بے شائبہ پذیرائی نے اس حقیقت کو واضح کر دیا کہ ہم اہلِ مدائن کے اسلام کو کیوں درست مانتے ہیں اور اس پر اعتماد کرتے ہیں، جبکہ عمر کے لشکر کی دوسری فتوحات کو نظر انداز کرتے ہیں اور ان کی طرف کم توجہ دیتے ہیں؛ مگر وہ مقامات جہاں اہلِ مدائن کی طرح لوگ آزادی اور اختیار کے ساتھ ایمان لائے ، کیونکہ وہ بھی خود ان کی حق پسندی کی طرف لوٹتا ہے، نہ کہ عمر بن خطاب کی طرف۔
مدائن کی فتح اور لوگوں کو منطقی اور عقلی انداز میں اسلام کی دعوت دینے کے لئے سلمان کی یہ مأموریت، اور مقدس دینِ اسلام کو ہزاروں افراد کی بے مثال پذیرائی، سب سے بڑا فخر، سربلندی، اور نیز اس بات کی بہترین، واضح ترین اور مستند ترین دلیل ہے کہ ایرانیوں کا اسلام قبول کرنا ان کی پاکیزہ فطرت اور حق پسندی کا نتیجہ تھا۔
اس بیان کی رو سے سلمان فارسی پہلے خود مسلمان ہوئے، پھر انہوں نے اسلام کی خصوصیات اور فضائل ایران کے عوام کے سامنے بیان کئے، اس کے بعد ایرانیوں نے اپنی مرضی اور اختیار سے اس الٰہی دین کو قبول کیا۔
پھر یہی نئے ایرانی مسلمان ، عمر کے لشکروں کے ساتھ تعاون کرنے لگے اور ملک کے دوسرے علاقوں میں گئے، وہاں لوگوں کو حقیقتِ حال سنائی اور انہیں اسلام کی دعوت دی، اور اس طرح ایک کے بعد ایک شہر فتح ہوتے گئے...۔
لیکن عمر کا لشکر چونکہ مالِ غنیمت، خزانے اور مادی مفادات کے محور پر جنگ کرتا تھا، اس لئے وہ قتل و غارت گری، لوٹ مار، ظلم و جنایت اور اس جیسے دوسرے اعمال کے علاوہ کوئی اور تحفہ نہ لا سکے۔ جیسا کہ علامہ علائی مصری بھی اس حقیقت تک پہنچے اور انہوں نے کہا کہ عمر کی تمام فتوحات اسلام کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئیں۔[1]








