۳۔ جمود کی عادت
ہمارے مذکورہ بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دشمن منفی پروپیگنڈوں کے ذریعہ لوگوں کے افکار کو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور آپ کی عالمی حکومت کی طرف توجہ دینے سے غافل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
ہمارے معاشرے میں بہت سارے لوگ امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے غافل ہیں ، یعنی جس حد تک اس بزرگ ہستی کے بارے میں سوچنا چاہئے اور ان کی طرف توجہ کرنی چاہئے ؛ وہ اس حد تک بھی حضرت کی طرف متوجہ نہیں ہیں ۔ جس کے نتیجے میں وہ آپ کی عادلانہ حکومت کے قیام اور اس عظیم ہستی کی حکومت میں علمی و معنوی ترقی سے دور ہو گئے ہیں اور عصر ظہور کی بے شمار حیرت انگیز چیزوں سے بے خبر ہیں۔
ظہور کے حیرت انگیز دور سے واقف نہ ہونے کا ایک اہم عنصر یہ ہے کہ ہمیں خشک اور بے روح زندگی کی عادت ہو چکی ہے ۔ ہمیں ایسی بے روح زندگی کا عادی بنانے میں نامعلوم ہاتھوں نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔
جی ہاں ! ہم روح اور معنویت و روحانیت کے بغیر زندگی گزارنے کے عادی ہو چکے ہیں ،اور جن لوگوں کو یہ چاہئے تھا کہ وہ معاشرے کو اس غفلت سے نجات دلا کر اسے معنویت اور آل للہ کی طرف راغب کریں ، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری انجام نہیں دی ۔
کچھ لوگ کسی حد تک اہلبیت علیہم السلام کے افکار پر عمل پیرا ہو کر دوسروں کو ان سے آشنا کروانے میں کامیاب ہوئے،لیکن انہوں نے بھی یہ سفر پورا نہیں کیا اور منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکے۔ کیونکہ راستے میں بہت سی رکاوٹیں ہیں اور دشمن نے انسان کے نفس کی طاقت سے استفادہ کرتے ہوئے انہیں ان کے نفس کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے ، اور وہ ہر طرح کی محرومی کو برداشت کرنے کے عادی ہوگئے ہیں ۔
انسان کا نفس اسے ہمیشہ برے اور ناشائستہ اعمال پر اکسانے کے علاوہ ، ایک بہت ہی مؤثر قوت کا بھی حامل ہے کہ جو انسانوں کی معنوی زندگی کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔ اور وہ رکاوٹ یہ ہے کہ نفس اسی چیز کا عادی ہو جاتا ہے جس کی اسے تلقین و تبلیغ کی جاتی ہے۔کچھ نامعلوم ہاتھوں نے اس عظیم طاقت کا استعمال کیا ہے اور لوگوں کو اہلبیت علیہم السلام کی عالمی اور عادلانہ حکومت سے دور کرکے انہیں اپنی تبلیغات اور پروپیگنڈوں کے ذریعے موجودہ حالات کا عادی بنا دیاہے۔
ہمارے معاشرے میں لوگوں کا نفس بے روح اور معنویت سے عاری زندگی کا عادی ہو چکا ہے ، اور اسی عادت کی بنیاد پر اس کی پرورش ہوئی ہے ۔ہمارے سماج کا ایسی زندگی کا عادی ہو جانا، ہم پر بہت بڑا غلبہ تھا اور ہے ، لیکن درحقیقت اس عادت کا ہم پر ایک عجیب اور بہت بڑا اثر ہوا ہے کہ اس نے ہمیں معنوی زندگی کا رخ کرنے سے روک دیا ہے۔
امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
للعادة على كلّ انسان سلطاناً. [1]
ہر انسان پر عادت کی ایک سلطنت ہے ۔
جب انسان کے نفس کو کسی چیز کی عادت ہوجاتی ہے تو اس پر اس کا نشہ حاوی ہوجاتا ہے اور وہ اسے اپنے علاوہ کسی اور چیز کی طرف مائل ہونے سے روکتی ہے۔
اسی طرح موجودہ صورتحال کے عادی ہو جانے کا بھی یہی مسئلہ ہے جس نے ہمیں نہ صرف عظیم روحانی و معنوی امور سے دور رکھا ہے، بلکہ ہم اپنی غیر معمولی حالت کو سمجھنے سے بھی غافل ہیں ، کیونکہ اگر ہمیں اپنی موجودہ صورتحال سے کوئی تکلیف ہوتی اور ہمیں عظیم معنوی نعمتوں سے محرومی کا دکھ ہوتا تو آخر کار ہم اپنی منزل تک پہنچ جاتے ۔
امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
لن تسكن حرقة الحرمان حتّی یتحقّق الوجدان . [2]
محرومی کی آگ اس وقت تک نہیں بجھ سکتی ، جب تک انسان اس چیز کو حاصل نہ کرے لے ،جس سے وہ محروم ہے ۔
اب انسانی معاشرہ عظیم روحانی اور معنوی نعمتوں سے محروم ہے ، لیکن اس نے اس محرومی کی طرف توجہ نہیں دی ہے اور اسی وجہ سے وہ اپنی محرومی کی آگ میں جل نہیں رہا ۔
اگر کوئی شخص واقعی اپنی موجودہ حالت سے پریشان ہو اور اپنی محرومی کی آگ میں جل رہا ہو تو آخر کار وہ اپنا مقصد حاصل کر ہی لے گا،جیسا کہ امیر کائنات حضرت امام علی علیہ السلام نے اس قول میں فرمایا : محرومی کی آگ میں جلنا انسان کو خواہشات کے کعبہ تک پہنچا دیتا ہے۔








