حضرت امام على علیه السلام کا زمان و مکان پر حاكم ہونا
ظہور کے زمانے کے عجائبات پر بحث کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ ہم دو وجوہات کی بنا پر امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی شخصیت کا ذکر کریں:
۱۔ اس کتاب میں زمانۂ ظہور کے بارے میں جن روایات سے استفادہ کیا گیا ہے ، وہ سب امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام سے مروی ہیں۔
۲۔ بعض روایات کے مطابق سب سے دلچسپ اور اہم چیز ظہور کے آغاز سے لے کر دنیا کو فتح کرنے میں امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے وجود کے اثرات کا بنیادی کردار ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو اہلبیت علیہم السلام کی روایات میں وارد ہوئی ہے ، اگرچہ ابھی تک اس کا مکمل تجزیہ و تحلیل اور تفصیل بیان نہیں کی گئی ہے۔
ان دو وجوہات کی بناء پر ہم کتاب کا آغاز امیر کائنات علی بن ابی طالب علیہما السلام کے نام اور ذکر سے کرتے ہیں ۔
ایک سب سے اہم اور قیمتی بحث جو انسان کے دل کو اہلبیت علیہم السلام کی محبت سے بھر دیتی ہے، وہ ظہور کے پرشکوہ دور میں ہونے والی عجیب اور حیرت انگیز تبدیلیوں کی بحث ہے۔
ہم اس بات کی وضاحت کریں گے کہ ہم حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو ’’صاحب الزمان ‘‘ کیوں کہا جاتا ہے ، حالانکہ تمام اہلبیت علیہم السلام صاحب الزمان ، ما فوق زمان ہیں اور زمانے پر مقدم ہیں ۔ [1]
اب سرور کائنات امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے مقام و مرتبے ، عظمت و منزلت اور اس عظیم شخصیت کے مافوق زمان اور زمانے پر مقدم ہونے کی حقیقت کو جاننے کے لئے ہم ایک مختصر نکتہ ذکر کرتے ہیں تاکہ ہر زمانے میں کائنات کی اس مظلوم ہستی کے چاہنے والوں کے غمزدہ دل شاد ہو جائیں۔
[1] ۔ ہم زمان کی بحث میں زمان میں تصرف کرنے کے بارے میں امیر المؤمنین کا ایک اہم واقعہ بیان کریں گے کہ جو آپ نے جناب سلمان کو دکھایا تھا .








