اميرالمؤمنين حضرت امام على علیه السلام کی ولایت کا زمان و مكان پر تسلّط
کائنات کے اسرار میں سے ایک اہلبیت علیہم السلام کی ولایت کے عظیم مقام کا جاذبہ و دافعہ ہے۔ ہر وہ شخص جو ولایت کے مقام سے کسی حد تک بھی واقف ہو ،وہ جانتا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے جاذبہ نے پوری تاریخ میں بہت سے لوگوں کو گمراہی کے بھنور سے نجات دلائی ہے اور راہ راست کی طرف ان کی ہدایت کی ہے۔
امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی ولایت کا زمان و مکان پر تسلّط؛ آپ کی ولایت کی عظیم طاقت کا ایک نمونہ ہے۔
امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کا تسلط ، آپ کا زمان و مکان سے آگاہ ہونا ، ولایت کی طاقت اور اس عظیم مقام کے جاذبہ و دافعہ نے زمان و مکان کے لحاظ سے دور اور نزدیک کے لوگوں کی رہنمائی کی ہے، اور نہ صرف انہیں گمراہی اور ہلاکت سے نجات دلائی ہے بلکہ انہیں اہلبیت علیہم السلام کے مضبوط قلعہ میں داخل کیا ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ اب بھی دنیا کے بہت سے راز نامعلوم ہیں اور جب تک دنیا پر شیطان کا راج رہے گا، وہ راز نامعلوم ہی رہیں گے اور لوگ ان کی حقیقت سے واقف نہیں ہوں گے۔ ان اسرار میں سے ایک اہلبیت علیہم السلام کے مقامِ ولایت کے جاذبہ و دافعہ کا مسئلہ ہے۔
ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جو ظاہری طور پر امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے ہمنشین تھے لیکن انہوں نے اس عظیم ہستی کی تعلیمات کے انوار سے استفادہ نہیں کیا اور وہ روحانی و معنوی طور پر آپ سے دور تھے۔ اور بعض دوسرے لوگوں کے لئے بظاہر امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے قریب ہونے میں بہت بڑی رکاوٹیں تھیں لیکن وہ اس عظیم ہستی کے خاص محبّ اور عاشق بن گئے اور ان کے لئے زمان یا مکان کی دوری کبھی بھی حضرت امام علی علیہ السلام سے ان کی آشنائی میں رکاوٹ نہیں بنی؛ کیونکہ آپ کا وجود ہر زمان و مکان پر تسلّط رکھتا ہے اور اس عظیم ہستی کا جذبہ کسی بھی زمان و مکان میں کسی بھی انسان کی دستگیری کر سکتا ہے۔
اب ہم ایک ایسے شخص کا بہت ہی دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں جس کے لئے امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے قریب ہونے میں بڑی رکاوٹیں تھیں لیکن اس نے اپنے راستے کی تمام رکاوٹوں کو ہٹا دیا اور اس کا شمار حضرت امام علی علیہ السلام کے محبوں میں ہونے لگا ؛ وہ ہارون الرشید کا بیٹا قاسم ہے۔








