ظہور سے پہلے کی دنیا کی ایک تصویر
دنیا تباہ کن جنگوں میں گھری ہو گی۔
بین البراعظمی میزائل لاکھوں لوگوں کو ہلاک کریں گے۔
ایٹم بم عوام کو مار رہے ہوں گے۔
میدان جنگ نوجوان نسل کی آرامگاہ ہوں گے ۔
معصوم بچوں کے پاس کوئی پناہ گاہ نہیں ہو گی اور وہ اسی طرح موت کی آغوش میں سو جائیں گے۔
غمزدہ باپ اور مائیں دکھ اور غم کے گہرے سمندر میں ڈوب جائیں گے۔
مجرموں کے خونی پنجے زخمیوں اور مظلوموں کے گلے دبا رہے ہوں گے ۔
خوراک کی کمی لوگوں کو تباہ کر دے گی اور بھوکے لوگوں کی دل دہلا دینے والی چیخیں پتھر کے دل کو بھی پگھلا دیں گے ۔
غربت اور تباہی معاشرے کے تمام افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، اور جانسوز مصیبتیں لوگوں کی روحوں کو متأثر کریں گی۔
ہر کوئی اپنا ذہنی سکون کھو بیٹھے گا اور موت کے خوفناک خواب کو اپنے سامنے جلوہ گر دیکھے گا!
آسمانی آفات سوگواروں کے خون آلود دلوں کو مزید سوگوار بنائیں گی!
نئی بیماریاں اور وائرس لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو نگل جائیں گے اور بالآخر مذکورہ بالا مصیبتیں اور تباہی ایک عظیم اور لاشعوری تبدیلی کی بنیاد بن جائے گی ۔ لوگوں کے ذہن میں ایک غیبی مدد اور دنیا کے مصلح کے ظہور کی امید کے خیالات پرورش پا رہے ہوں ؛کیونکہ انسان اپنی فطرت کی بنیاد پر شدید مشکلات اور تباہ کن افراتفری کے وقت خدا کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس کی لامحدود قدرت کی وجہ سے ان مصائب اور مشکلات سے نجات پانا چاہتا ہے ۔
خداوند قرآن میں فرماتا ہے:
واذا مسَّ الإنْسانَ الضرُّ دَعانا لِجَنْبِهِ أَوْقاعِداً أَوْ قائِماً. [1]
جب انسان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے، خواہ وہ اپنے پہلو کے بل لیٹا ہو، بیٹھا ہو یا کھڑا ہو۔
یعنی جب انسان سخت مشکل میں گرفتار ہوتا ہے تو وہ کسی بھی حالت میں ان سے بچنے کے لئے خدا سے راہِ نجات تلاش کرتا ہے۔
لہٰذا جب انسانی معاشرے پر بدبختی کے بادل چھا جاتے ہیں اور تمام لوگ ظلم و ستم کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں تو پھر اقوام عالم میں موعودِ اُمم کے ظہور کی تیاری اور انتظار پیدا ہو جاتا ہے اور وہ کسی غیبی مدد کے پہنچنے کے لئے دن گنتے ہیں۔
آسمانی ندا لوگوں کو حضرت مہدی عجل الله تعالىٰ فرجه الشریف کے ظہور کے لئے تیار کرے گی اور ان کے دلوں میں ان کی محبت کو بڑھائے گی ۔
اس دن دنیا کے عوام کی بڑی تعداد ایک ایسی آسمانی شخصیت کی منتظر ہو گی اور ان کے قیام کی امید میں زندگی بسر کرے گی جو دنیا کے منظر نامہ سے ظلم و ستم اور جبر و استبداد کو مٹا دے اور بدانتظامیوں کو درست کرے۔
اس صورت میں ان میں انتظار کی کیفیت ان شدید ذہنی الجھنوں اور پریشانیوں سے پیدا ہوتی ہے جن کا وہ شکار ہیں اور درحقیقت یہی اضطرار ان میں انتظار کی کیفیت اور آسمانی قیام کی طرف رجحان پیدا کرتا ہے۔
پس انتظار ہی امامِ عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عالمی حکومت کےقیام اور تسلط کی ایک اہم بنیاد ہے۔
لہذا جب تاریخ کی قدیم ترین عبادت گاہ کے پاس سے انسانیت کے نجات دہندہ حضرت امام مہدی ارواحنا فداہ کی حیات بخش آواز دنیا والوں کے کانوں تک پہنچے گی تو ہر مذہب اور ملت کے پاک فطرت لوگ پوری دنیا میں اس عظیم ہستی کی عادلانہ حکومت کے قیام کو قبول کریں گے۔








