سب سے زیادہ مهربان
قارون کے اس واقعہ میں خدا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ اگر وہ مجھ سے مدد مانگتا تو میں اسے نجات دے دیتا، لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی اور اسے نجات نہ دی۔اہلبیت علیہم السلام چونکہ مشیتِ الٰہی کے مظہر اور ارادۂ خداوندی کے عامل ہیں، اس لئے وہ وہی کچھ کرتے ہیں جو خدا چاہتا ہے۔ لہٰذا اگر فرعون ،اہلبیت علیہم السلام سے ایسی درخواست کرتا تو وہ خدا کی مشیت کے مطابق اسے غرق ہونے سے نجات دے دیتے،لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام اگرچہ اولوالعزم پیغمبر تھے،لیکن ان کے تمام اعمال مشیتِ الٰہی کے عین مطابق نہیں تھے، اس لئے انہوں نے اس کی نجات کے لئے کوئی اقدام نہ کیا۔یہ بات بذات خود اہلبیت علیہم السلام کی خدا کے اولوالعزم پیغمبروں پر برتری کے دلائل میں سے ایک دلیل ہے۔
ایک بہت اہم نکتہ جس پر توجہ دینا بہت مفید ہے،اور وہ یہ ہے کہ زمین کے خزانے ظاہر ہونے سے مراد صرف وہ خزانے نہیں ہیں جو امیر لوگوں نے زمین کے اندر چھپا کر رکھےہیں، بلکہ اس میں بہت بڑی معدنیات بھی شامل ہیں جو اربوں سال گزرنے سے سونے اور چاندی وغیرہ میں تبدیل ہو چکے ہیں اور زمین کی گہرائیوں، سمندروں اور پہاڑوں کے اندر موجود ہیں۔ لہٰذا، سرور کائنات امیرالمؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ظهور کے زمانے میں زمین کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے خزانے بھی ظاہر ہوں گے، ان میں سونے وغیرہ کی کانیں بھی شامل ہیں۔ دنیا کی بڑی معدنیات کے بارے میں اس اہم نکتہ پر توجہ کریں :








