دنیا کی معدنیات کا آشکار ہونا
دنیا بھر میں بہت سے معدنیات موجود ہیں جن میں سے اکثر ابھی تک نامعلوم ہیں اور کسی نے ان سے استفادہ نہیں کیا ۔ یہ معدنیات دنیا کے تکامل یعنی حضرت بقیۃ اللہ الأعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے دورِ حکومت میں نکالی جائیں گی اور لوگ ان سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ سونے، چاندی، عقیق، ہیرے جواہرات اور قیمتی پتھروں کی کانوں سے ان کے حصول کے لئے اب تک بہت سے لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کان میں عجیب و غریب آثار پائے جاتے ہیں۔
ان کانوں میں پائی جانے والی غیر مرئی شعاعیں اور لہریں اپنے اردگرد گہرا اثر ڈالتی ہیں۔نہ صرف خود کانیں بلکہ عقیق اور فیروزہ وغیرہ کے ان چھوٹے ٹکڑوں سے بھی ایسی لہریں خارج کرتے ہیں جنہیں لوگ انگوٹھی کے نگینے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور وہ ان کی روحانیت اور نفسیات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
لہٰذا یہ حکمت سے خالی نہیں ہے ، اسی وجہ سے دین اسلام میں ان کو پہننا مستحب قرار دیا گیا ہے اور اس کا ثواب بھی ہے۔اب اگر عقیق یا فیروزہ کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے سے ایسی شعاعیں اور لہریں پیدا ہوتی ہیں جو اپنے ماحول کو متاثر کرتی ہیں، تو پھر عقیق یا فیروزہ کی پوری کان میں کس قدر طاقتور اور مؤثر لہریں پائی جاتی ہوں گی؟!
دنیا میں مختلف قسم کی معدنیات اور کانیں موجود ہیں جن کی ظاہری قیمت کے علاوہ ان کے پوشیدہ اور اہم غیر مرئی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ ہر کان دوسری کان سے اس کی جنس کی نوعیت کی وجہ سے مختلف ہوتی ہے، کیونکہ ہر کان سے نکلنے والی شعاعیں اور لہریں مختلف ہوتی ہیں۔
سونے کی کان، چاندی کی کان، عقیق کی کان، ہیروں کی کان اور دنیا بھر میں درجنوں قیمتی کانیں ایسی ہیں جو ابھی تک زمین کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہیں اور انہیں اب تک نہیں نکالا گیا ۔
یہ سب ظہور کے پرنور اور درخشاں دور میں ظاہر ہوں گی اور وقت انسان ان کی حقیقی قدر و قیمت سے آگاہ ہوں گے۔لہٰذا دنیا کی معدنیات اور کانوں کے بہت اہم روحانی اثرات ہیں ، نیز یہ لوگوں کے فقر کو دور کرنے اور ضروریات کو پورا کرنے میں بھی مؤثر ہیں۔
میرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے عصرِ ظهور میں دنیا کی مختلف کانوں کے ظاہر ہونے کے بارے میں کچھ مطالب بیان فرمائیں ہیں جو قابل غور ہیں۔
مولائے کائنات اميرالمؤمنين حضرت امام علی علیه السلام «نهج البلاغه» مىں فرماتے ہیں:
ألا وفي غد وسيأتي غداً بما لاتعرفون، يأخذ الوالي من غيرها عمّالها على مساوى أعمالها، وتخرج له الأرض أفاليذ كبدها ، وتلقى إليه سلماً مقاليدها، فيريكم كيف عدْلُ السيرة، ويحيي ميّت الكتاب والسنّة. [1]
آگاہ رہو! کل ایک ایسا واقعہ پیش آئے گا اور عنقریب وہ کل ایسی چیزوں کے ساتھ آ پہنچے گا جن سے تم واقف نہیں ہو۔ بادشاہوں کے علاوہ ایک حاکم (امام عصر ارواحنا فداہ) ان کے کارندوں کو ان کے برے اعمال پر جواب دہ ٹھہرائے گا۔ زمین اپنے جگر کے ٹکڑے اس کے لئے باہر نکال دے گی (سونے، چاندی اور دیگر معدنیات کے تمام خزانے ظاہر کر دے گی) اور اپنی کنجیاں اس عظیم ہستی کے حوالے کر دے گی (یعنی تمام شہر ان کے قبضے میں آ جائیں گے)۔پھر وہ تمہیں دکھائے گا کہ حکومت چلانے میں عدل و انصاف کا طریقہ کیا ہوتا ہے، اور کتاب و سنت کے ان فراموش شدہ احکام کو زندہ کرے گا جن پر عمل ترک کر دیا گیا تھا۔
اس روایت میں امیرالمؤمنین حضرت امام علیعلیہ السلام نے صراحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ عصرِ ظہور ایک ایسا مستقبل ہے جس کی قدر و عظمت ابھی تک لوگوں کے لئے نا معلوم ہے:
سيأتي غداً بما لاتعرفون.
کل (مستقبل) آئے گا ، جس سے تم آگاہ نہیں ہو ۔
یہاں چند نکات کو بیان کرنا ضروری ہے :
۱۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ آسمانی کتابوں نے جو کچھ عصرِ ظہور کے بارے میں لوگوں کو بتایا ہے اور نیز امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے جو کچھ اس حیرت انگیز مستقبل کے بارے میں فرمایا ہے ، وہ سب کچھ بھی لوگوں کو ان کی فکری ناپختگی کی وجہ سے اس پراسرار اور حیرت انگیز دور سے پوری طرح آشنا نہیں کر سکا۔اسی لئے امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:ایسا مستقبل آئے گا جس سے تم آشنا نہیں ہو۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عصرِ ظہور کے کچھ ایسے اسرار ہیں جو اب تک نامعلوم ہیں۔
۲۔ اس فرمان سے ایک اور نہایت اہم نکتہ اخذ کیا جا سکتا ،اور وہ یہ ہے:ظہور کے آغاز میں نہ صرف دنیا کے بادشاہ اور خودسر حکمران گرفتار کئے جائیں گے، بلکہ ان کے کارندوں اور عملہ سے بھی مؤاخذہ کیا جائے گا۔اور یہ سب کچھ غیبت میں انجام دیئے گئے ان کےغیر انسانی اعمال اور برے رویّوں کی پاداش میں ہوگا ۔
لہٰذا ظہور کے زمانے میں صرف دنیا کی خودسر حکومتوں کے سربراہوں کا ہی محاکمہ نہیں کیا جائے گا ، بلکہ ان کے مددگاروں اور کارندوں کو بھی عادلانہ عدالت میں پیش کیا جائے گااور انہوں نے مظلوم عوام پر جو ظلم و ستم روا رکھا ہو گا،ان سے اس کے بارے میں بازپرس کی جائے گی۔عصرِ ظہور کی عادلانہ عدالت ان سے انتقام لے گی اور اس دن وہ اپنی خودسری اور خونخواری کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔
۳۔ ایک اور نہایت اہم نکتہ جس کی طرف امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے اس مختصر بیان میں اشارہ فرمایا ہے، وہ جمادات کا شعور و ادراک ہے۔دنیا میں انسانی، حیوانی اور نباتاتی شعور کے علاوہ جمادات کا بھی ادراک و شعور پایا جاتا ہے ۔ یعنی انسان انسانی شعور رکھتے ہیں،حیوانات حیوانی شعور کے مالک ہوتے ہیں اور نباتات نباتاتی شعور کے حامل ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ جمادات بھی صاحب ادراک و شعور ہیں اور اسی شعور کی بنیاد پر ان پر مختلف قسم کے رویّوں اور تعاملات کے اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں،اگرچہ وہ ہمارے لئے نامعلوم اور پوشیدہ ہیں، جس طرح ہمارے لئے نباتات پر بعض رویّوں کے اثرات ظاہری طور پر قابلِ مشاہدہ نہیں ہوتے،اسی طرح جمادات پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جو ہم براہِ راست محسوس نہیں کر پاتے۔
اس قول میں حضرت اميرالمؤمنين علیه السلام فرماتے ہیں : »وتخرج له الأرض أفلاذ كبدها«، یہ اس بات کی صراحت ہے کہ زمین، حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے لئے اپنے جگر کے ٹکڑے خارج کرے گی۔ اس مختصر جملے میں بہت سے اہم مطالب پوشیدہ ہیں، جن میں سے بعض کو ہم بیان کرتے ہیں:
۱۔ زمین اپنے جمادی شعور کے سبب، زمین و زمان میں واقع ہونے والی تبدیلی سے باخبر ہوتی ہے؛ اسی لئے امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: زمین اپنے جگر کے ٹکڑے باہر نکالے گی۔ اور یہ نہیں فرمایا کہ زمین سے اس کے جگر کے ٹکڑے باہر نکالے جائیں گے، کیونکہ «تخرج» معلوم کا صیغہ ہے، مجہول نہیں ہے۔جمادات میں جمادی شعور کا وجود ایسا امر ہے جس سے نہ صرف اُس زمانے کے لوگ واقف نہیں تھے، بلکہ آج بھی دنیا کے زیادہ تر لوگ اس سے آگاہ نہیں ہیں۔
۲۔اس روایت میں موجود ایک اور دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ جمادات نہ صرف شعور رکھتے ہیں، بلکہ اگر خدا چاہے تو وہ اس شعور سے استفادہ بھی کر سکتے ہیں۔ظہور کے درخشاں دور میں پوری کائنات پر حضرت بقیۃ اللہ الأعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے اختیار میں ہوگا، اس وقت نہ صرف انسان اور دیگر مخلوقات حضرت کی خدمت کریں گے بلکہ زمین بھی اپنے سینے میں چھپے ہوئے سونے اور چاندی کے خزانوں کو باہر نکال کر اپنی خدمات پیش کرے گی۔
اسی طرح تمام دنیا والے جان لیں گے کہ زمین سے زمان تک اور نامی سے جمادات تک، سب خاندان وحی علیہم السلام کی ولایت کے پیروکار ہیں، اگرچہ بعض ناپاک اور بدقسمت دور نور ولایت کی چمک کو روکتے رہے ہیں۔لہٰذا چونکہ زمین بھی ولایت کے عظیم مقام کو قبول کرتی ہے،اس لئے وہ بھی اپنے پوشیدہ خزانے حضرت کے قدموں میں نچھاور کرے گی۔
۳۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ زمین بھی حضرت کے سامنے تسلیم ہو کر پُراسرار اور نامعلوم مقامات کی چابیاں آپ کے حوالے کرے گی ۔
اميرالمؤمنين حضرت امام علی علیه السلام كے اس فرمان »تخرج له أفاليذ كبدها وتلقى إليه سلما مقاليدها«، میں كلمه «له» اور «إليه» دو آخری نکات کی حقیقت کو بیان کرتے ہیں ۔
چنانچہ زمینوں کے یہ راز اور کائنات کے وہ نامعلوم مقامات بھی اس دور میں ظاہر ہوں گے اور وہ ایسا زمانہ ہوگا جب کائنات کے تمام راز آشکار ہوں گے اور انسانی معاشرہ اُن اہم اسرار سے آگاہ ہو گا جو ابھی تک زمین کے سینے میں چھپے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد مولائے کائنات امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام اس خطبے میں فرماتے ہیں:»فيريكم كيف عدل السيرة«، پھر وہ آپ کو دکھائیں گے کہ عادلانہ طریقہ اور سیرت کیا ہوتی ہے۔
۴۔قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی حکومت کے عادلانہ ہونے کو بیان کرنے کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا کہ «ويريكم كيف عدل السيرة»؛ وہ تمہیں دکھائے گا کہ عادلانہ سیرت کیا ہوتی ہے ، بلکہ فرمایا:»فيريكم كيف عدل السيرة«۔
اگر اس فرمان میں ’’واو‘‘ اور ’’فاء‘‘سے معنی میں فرق پر غور کیا جائے تو اس سے کئی اہم نکات سامنے آتے ہیں۔
کیونکہ اگر حضرت «ويريكم» کی تعبیر استعمال کرتے تو اس سے یہ معلوم ہوتا کہ آپ کی حکومت کا طریقۂ کار اس سے پہلے بیان ہونے والی باتوں پر مترتب نہ ہوتا۔ لیکن چونکہ آپ نے یہاں ’’فاءِ تفریعیہ‘‘ استعمال کرتے ہوئے «فيريكم» فرمایا ہے ، اس لئے اس سے یہ مراد ہے کہ حکومت کا عادلانہ طریقہ پہلے سے بیان کئے گئے مطالب سے متعلق ہے ۔یعنی وہ خودسر حکمرانوں کا محاسبہ اور مؤاخذہ کرنے اور زمین کے خزانوں اور کنجیوں کے اختیار میں آ جانے کے بعد، تمہیں حکومت چلانے کا عادلانہ طریقہ دکھائے گا۔
اس روایت میں دلچسپ نکات بیان ہوئے ہیں، جن میں سے ہم چند اہم نکات کومختصر طور پر ذکر کرتے ہیں:
۱۔ تمام خودسر حکمرانوں کو گرفتار کیا جانا چاہئے۔
۲۔ وہ سب اپنے برے رویوں کی وجہ سے جوابدہ ہونے چاہئیں ۔
۳۔ ان میں سے کسی کے لئے دنیا میں کہیں بھی پناہ گاہ نہیں ہے۔ لہٰذا ان میں سے کوئی بھی زمین کے دوسرے علاقوں میں پناہ نہیں لے سکتا۔
۴۔ ان میں سے کوئی بھی اپنی اضطراری پناہگاہ میں چھپ نہیں سکتا تاکہ ان کے برے اعمال پر معافی نامہ بھیجا جائے۔
۵۔تمام لوگوں کے درمیان عدل کے نفاذ کی بنیاد پر تمام خزانوں اور تمام وسائل سےمنصفانہ طریقے سے استفادہ کیا جائے گا اور کسی کی حق تلفی نہیں کی جائے گی ۔ اس طرح سب لوگ حکومت کے عادلانہ طریقۂ کار کو دیکھ سکیں گے اور صرف عدل کاے نعرے سن کر لوگوں کے کان نہیں پکیں گے ۔
۶۔امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف قرآن و سنت کے مردہ اور فراموش شدہ احکامات کو زندہ کریں گے اور انہیں معاشرے میں عام کریں گے ۔








