امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
کرم سے سرشار دنیا

کرم سے سرشار دنیا

امام عصر عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشرف کی عالمی حکومت میں نہ صرف جنگیں اور خون خرابہ ختم ہو جائے گا ،بلکہ ساری دنیا پر الفت و محبت اور کرم  چھا جائے گا ، گویا دنیا کے سب لوگ ایک دوسرے کے رشتہ دار  ہیں ، بلکہ رشتہ داروں سے بھی زیادہ مہربان ہیں؛ کیونکہ اس زمانے میں لوگوں کی ایک دوسرے سے دوستی اور محبت لین دین اور دوسرے مادی امور کی بنیاد پر نہیں ہو گی ، بلکہ اس زمانے میں دوستی اور محبت کی بنیاد معنوی امور پر رکھی جائے گی ، جس دوستی اور محبت  کی بنیاد معنویت پر رکھی جائے وہ رشتہ داری کی بنیاد پر قائم دوستی اور محبت سے بھی زیادہ مضبوط ، محکم اور مستحکم ہوتی ہے ۔

امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

المودّة في الله آكد من وشيج الرحم.  [1]

خدا کی راہ میں محبت کا رشتہ خاندانی رشتوں سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے ۔

یہ بات یاد رکھیں کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کے ظہور کا زمانہ شفقت اور کرم کا دور ہے ، اور جیسا کہ روایات میں وارد ہوا ہے کہ امام عصر عجل الله تعالىٰ فرجه  الشریف  جو شہر اور جو ملک بھی فتح کریں گے ؛ وہاں اضطراب ، عدم تحفط اور  خشونت و تشدد کی جگہ  آرام و آسائش اور امن و امان آ جائے گا ۔

لیکن پوری تاریخ میں شیطانوں اور ان کے کارندوں نے اپنی منفی اور تباہ کن تبلیغات اور پروپیگنڈوں  کے ذریعہ عصر ظہور کو تشدد  اور خشونت کے دور کے طور پر پیش کیا ہے تا کہ اہلبیت علیہم السلام کے محبّ اور شیعہ نجات کے زمانے کی آمد کے بارے میں نہ سوچیں  اور اس کے نتیجہ میں وہ ظہور کے افکار اور عالمِ ہستی کے سرور و سردار حضرت بقیۃ اللہ الاعظم ارواحنا فداہ کے ظہور کو درک کرنے کے تمایل سے بھی غافل رہیں اور جمود کی صورت میں اپنی اسی موجودہ حالت پر باقی رہیں۔

یہ ظاہر سی بات ہے کہ اگر دنیا کے عوام جانتے کہ مصلح عالم کی عالمی  حکومت کے ذریعہ  ظالموں اور جابروں کی حکومت کا خاتمہ کر دیا جائے گا، اور اقوام عالم کو آرام و آسائش اور امن و امان کی نعمت میسر ہو گی ، تو پھر مصلح کے ظہور کے افکار پوری دنیا میں پھیل جاتے ؛ لیکن شیطان اور اس کے مددگار اپنے منفی پروپیگنڈوں کے ذریعہ کرم کے دور کو تشدد کے دور کے طور پر دکھانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں لوگ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عالمی حکومت سے غافل رہیں اور اسی طرح مشکلات اور پریشانیوں کو برداشت کرتے ہوئے موجودہ صورتحال کے عادی ہوجائیں اور اس کے نشے میں مبتلا رہیں ۔

 


[1] ۔ شرح غرر الحکم : ج ۱ص ۳۹۷.

بازدید : 69