دنیا میں عسکریت پسندی کا رجحان
دنیا میں عسکریت پسندی کا رجحان دنیا کی اقوام میں غربت پیدا کرنے اور اس میں اضافے کا ایک اہم ترین عنصر ہے۔ مطلق العنان سیاست دان اپنی حکومتوں کو مزید مضبوط کرنے کے لئے نہ صرف عسکریت پسندی میں مشغول ہوتے ہیں، بلکہ اس میں تیزی سے اضافہ کرتے ہیں اور ہتھیاروں کے اخراجات میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔
ہمارے اس بیان کے بارے میں مزید جاننے کے لئےاس رپورٹ پر توجہ کریں :
دنیا میں عسکریت پسندی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سنہ ۱۹۸۵ ء میں دنیا بھر میں فوجی بجٹ 900 بلین ڈالر تھا۔ اسی طرح سنہ ۲۰۰۳ءمیں دنیا بھر میں خرچ ہونے والا فوجی بجٹ 956 بلین ڈالر تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کے شعبے میں حالیہ پیش رفت کے ساتھ اس بجٹ میں ۱۱ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ دنیا کے امیر ممالک نے خرچ کیا ہے۔مثال کے طور پر سنہ ۲۰۰۳ء میں دنیا کے فوجی اخراجات کا ۷۵ فیصد حصہ زیادہ آمدنی والے ممالک نے خرچ کیا۔ جب کہ یہ ممالک دنیا کی آبادی کا صرف ۱۶ فیصدہیں ۔
امریکہ دنیا کے کل فوجی بجٹ کا تقریباً نصف بجٹ اکیلا خرچ کرتا ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں فوجی بجٹ میں اضافے کا رجحان سنہ ۲۰۰۱ء کے بعد تیز ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ ۲۰۰۰ء میں امریکی فوجی بجٹ 288.8 بلین ڈالر تھا، جب کہ اس کے بعد کے سالوں کا بجٹ 310،2.343، 1.396، 1.399، اور420.7 بلین امریکی فوجی بجٹ کے لئے منظور کیا گیا۔سنہ ۲۰۰۶ ء میں441.6 بلین ڈالر ہے۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ سرد جنگ کے بعد سے دنیا میں فوجی اخراجات میں اضافے کا بنیادی محرک رہا ہے۔ ایک تقابلی مطالعہ میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ ملک روس کے مقابلے میں چھ گنا سے بھی زیادہ فوجی اخراجات اور ہتھیاروں پر خرچ کرتا ہے جو سب سے زیادہ فوجی بجٹ رکھنے والا دوسرا ملک ہے ۔
سنہ ۲۰۰۴ ءکے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکہ نے فوجی اخراجات پر 1.399 بلین ڈالر خرچ کئے ہیں۔
اس پر روس نے 65.2 بلین ڈالر خرچ کئے ۔ ہتھیاروں پر خرچ کرنے دوسرے سب سے بڑے ممالک میں چین 56 بلین ڈالر، برطانیہ 49 بلین ڈالر، جاپان45.2 بلین ڈالر، فرانس 40 بلین ڈالر، جرمنی، 29.7 بلین ڈالر، سعودی عرب، 19.3 بلین ڈالر، بھارت، 19.1 بلین ڈالر اور اٹلی، 17.5 بلین ڈالر ہیں۔ یہ دس ممالک مجموعی طور پر دنیا کے فوجی اخراجات کا 740 بلین ڈالر خرچ کرتے ہیں۔[1]








