امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
۲- دشمنوں کی منفی تبلیغات

۲-  دشمنوں  کی منفی تبلیغات

کسی بھی چیز کے استعمال اور اس کی ترقی کے لئے تبلیغات کا کردار اس قدر زیادہ ہے کہ ممکن ہے دنیا کے پست ترین افراد مثبت تبلیغات کے نتیجے میں معاشرے میں محبوب  بن جائیں ؛ جس طرح منفی اور تخریب کارانہ  تبلیغات اور پروپیگنڈوں سے دنیا کی عظیم شخصیات کو لوگوں کی نظروں میں کسی اور طرح سے پیش کیا جا سکتا ہے ۔

تاریخ ایسے بہت سے واقعات کی شاہد ہے  کہ خونخوار ظالموں اور ستمگروں نے اپنے زہریلے پروپیگنڈوں کے ذریعہ لوگوں کی نظروں میں اپنے زمانے کی عظیم شخصیات کو کس طرح سے گرا دیا اور ان بزرگ شخصیات  کے خلاف لوگوں کے افکار کو زہر آلود کر دیا ۔

کیا انسانی تاریخ کو رسول خدا ﷺ کے بھائی اور جانشین امیر المؤمنین علی علیہ السلام جیسی کوئی شخصیت یاد ہے ؟

معاویہ نے  کس طرح اپنی زہریلی  تبلیغات کے ذریعہ شام کے عوام اور پھر دوسری اقوام کو  دھوکہ دیا  اور  ان کے افکار و خیالات کو امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے منحرف کر دیا ؟! [1]

اسی طرح دین کے دشمنوں نے منفی تبلیغات اور پروپیگنڈوں کے ذریعے رحمت و کرم کے مظہر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے رؤوف و مہربان چہرے کو ایک خونخوار فرد کے طور پر پیش کیا ۔

اس نکہ پر توجہ فرمائیں کہ ظہور کے زمانے میں قتل و غارت گری کے بارے میں جو روایات وارد ہوئی ہیں کہ جن میں اس کریم  اور مہربان امام  کے چہرے کو قتل و غارت گری اور خونریزی کرنے والے شخص کے طور پر پیش کیا گیا ہے ؛ وہ روایات ایسے راویوں نے گھڑی ہیں جو اہلبیت علیہم السلام کے دشمنوں میں سے تھے ۔ محمد ابن علی کوفی جیسے افراد ( جسے علم رجال کے تمام علماء نے کذّاب اور جھوٹا قرار دیا ہے)نے اس بارے میں متعدد روایات گھڑی ہیں ، لیکن بدقسمتی سے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے کچھ دوستوں اور چاہنے والوں پر بھی اس کا اثر ہوا ہے اور وہ بھی  آپ کی آمد  اور آپ کے ظہور سے خوفزدہ ہیں ۔

افسوس صد افسوس! دین کے دشمن ابلیس کا لبادہ اوڑھ کر  اس قسم کی روایات کی ترویج کرنے اور لوگوں کے عقائد خراب کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

انہوں نے اپنی منفی تبلیغات اور پروپیگنڈوں کے ذریعہ امام زمانہ عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کا ایسا چہرہ دکھایا  ہے کہ  انہوں نے امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے بہت سے دوستوں اور محبّوں کے دلوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا  ، اور انہیں اس بزرگ ہستی کی رحمت اور کرم سے غافل کر دیا ہے ۔

 


[1] ۔ مؤلف  کی کتاب  «معاويه: ۲۴/۱»  کی طرف رجوع فرمائیں  .

    بازدید : 602