امام زمانہ ارواحنا فداہ کی رحمت اور کرم
امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی اہم خوبیوں میں سے ایک اہم خوبی ،آپ کا لطف و کرم اور آپ کی مہربانی ہے ، لیکن بدقسمتی سے عام لوگ اس سے غافل ہیں ۔ جیسا کہ دعاؤں اور زیارات میں آپ کے بارے میں وارد ہوا ہے کہ امام رؤف ’’رحمۃ للعالمین‘‘ ہیں ، یعنی عالمین کے لئے رحمت ہیں ، اور آپ ظہور کے آغاز سے ہی اپنے خاص۳۱۳ اصحاب سے یہ عہد و پیمان لیں گے کہ صرف ان لوگوں سے ہی جنگ کرو ،جو تم سے جنگ کے لئے آئیں ، اور جو لوگ تم سے جنگ کرنے کے لئے نہ آئیں ، چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں ، چاہے بڑے ہوں یا بچے ؛ ان میں سے کسی کو قتل نہ کرو ، حتی اگر کوئی شخص تم سے جنگ کرنے کے لئے آئے اور میدان جنگ سے بھاگ جائے تو اس کا پیچھا کر کے اسے بھی قتل نہ کرو ۔
آیات و روایات کی رو سے دنیا کے ہر دین ومذہب اور قوم و ملت دنیا میں واقع ہونے والے بہت سے معجزات کا مشاہدہ کرنے کے نتیجے میں اور دیگر وجوہات کی بناء پر گروہ در گروہ اور اقوام کی صورت میں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف پر ایمان لائیں گے اور آپ کے پیروکاروں میں شامل ہوں گے ۔
دنیا کے تسخیر ہونے کے بعد حضرت بقية الله الاعظم عجل الله تعالى فرجه الشریف دنیا کے تمام لوگوں کے لئے اتمام حجت کریں گے ، چاہئے وہ کسی بھی دین و آئین سے تعلق رکھتے ہوں ، چاہئے وہ کسی بھی مسلک و مکتب کے پیروکار ہوں ، اور آپ دلیل و برہان کے ذریعے انہیں قرآن و عترت کی طرف دعوت دیں گے ۔ پھر جو لوگ اپنی ناپاک فطرت کی وجہ سے ایمان نہیں لائیں گے ؛ وہ مارے جائیں گے اور ساری کائنات میں سب لوگ حضرت کے پیروکار ہو جائیں گے ۔ [1]
درحقیقت اتمام حجت اور دلیل و برہان قائم کرنے کے بعد عصر ظہور میں وہی لوگ قتل ہوں گے جو توبہ نہیں کریں گے ، اور جن کا وجود رحمت الٰہی کی وسعت کی راہ میں رکاوٹ ہو گا ۔ اس بناء پر حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف دنیا کے لوگوں کے لطف و کرم اور رحمت سے پیش آئیں اور پوری دنیا میں رحمت الٰہی کو پھیلائیں گے ، اور دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں سے بغض و کینہ اور دشمنی نکال دیں گے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ لطف و کرم اور مہربانی سے پیش آئیں گے ۔
[1] ۔ بعض روایات میں وارد ہوا ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اہل کتاب سے جزیہ لیں گے اور کچھ دوسری روایات میں وارد ہوا ہے کہ آپ کسی سے بھی جزیہ قبول نہیں کریں گے ، ان روایات کے درمیان یوں جمع کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کے تسخیر ہونے کے بعد آپ دلیل و برہان کے ذریعے دنیا کے تمام افراد کو دین الٰہی کی طرف دعوت دیں گے ، اورجب تک لوگوں کے لئے اسلام و شیعت کی حقانیت پر دلیل و برہان پیش کیا جائے گا ، دوسرے ادیان و مذاہب کے افراد قتل ہونے سے امان میں ہوں ے اور اہل کتاب سے جزیہ لیا جائے گا ، لیکن دلیل و برہان قائم کرنے کے بعد جن لوگوں پر ان کی تاریک فطرت کی وجہ سے خدا کے درخشاں انوار کا کوئی اثر نہیں ہو گا ، اور وہ توبہ نہیں کریں تو وہ مارے جائیں گے اور اہل کتاب سے جزیہ قبول نہیں کیا جائے گے ۔








