علامہ علائی مصری کا عمر کی فتوحات کے بارے میں نظریہ
علامہ علائی مصری کا عمر کی فتوحات کے بارے میں نظریہ
عمر کی سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک اس کی مسلسل فتوحات تھیں، جن کے ذریعے وہ لوگوں کو تلوار کے زور پر اسلام قبول کرنے پر مجبور کرتا تھا۔
اگر وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اسی طرزِ عمل پر عمل کرتا، جو قرآن پیش کرنے اور دین میں ایمان کی دعوت دینے پر مبنی تھا، تو وہ اپنے اس ناپسندیدہ اعمال کا شکار نہ ہوتا، اور بعد میں اسی سقیفہ سے بنو امیہ کے جرائم بھی جنم نہ لیتے۔
یہ مصری مصنف اس عقیدے کا حامل ہے کہ عمر کی تمام فتوحات اسلام کے لئے نقصان پر ختم ہوئیں؛ کیونکہ وہ اسلام جو ایک معنوی ضمانت کے ساتھ پھیل رہا تھا اور آگے بڑھ رہا تھا، جنگی غلبے اور فتح کی صورت اختیار کر گیا اور اپنی معنوی حفاظت کھو بیٹھا۔[1]
یہ مختصر اور اجمالی نکات، جنہیں ہم نے اس کتاب میں بغیر تفصیل کے نقل کیا ہے، سب کے سب علامہ علائی کے نظرئے کی تائید کرتے ہیں۔[2]
بازدید : 473








