عالمی حکومت؛ اہل بیت علیہم السلام کا حق
عالمی حکومت ، خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام کا حق ہے ۔ ارادۂ الٰہی کے مطابق انہیں دنیا پر حکمرانی کرنی چاہئے ، اور حکومت غصب کرنے کرنے والوں کو لازمی طور پر اس منصب سے دستبردار ہونا چاہئے جس کے وہ مستحق نہیں ہیں۔ اور حق اس کے اہل کے سپرد کر دینا چاہئے ۔
امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں ۔
لنا حقٌّ ان أُعطيناه والاّ ركبنا أعجاز الابل وان طال السرى. [1]
ہمارا ایک حق ہے ، اگر وہ ہمیں دے دیا جائے (تو ہم اسے لیں گے)، ورنہ اونٹ پر سوار ہو کر (اپنا حق لینے کے لئے اسے چلائیں گے)، چاہے رات (اپنے حق سے محروم رہنے کی مدت) تک چلتے رہیں ۔
اس بناء ہر شیعوں کو اہلبیت علیہم السلام کی عادلانہ عالمی حکومت کے قیام کے لئے جدوجہد کریں ، اور خود کو حیرت و سرگردانی اور ادھر ادھر بھٹکنے سے نجات دیں ۔
امير المؤمنين حضرت امام علی علیه السلام ’’نہج البلاغه‘‘ میں فرماتے ہیں :
«فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ»؟«وَأَنَّى تُؤْفَكُونَ»! وَالْأَعْلاَمُ قَائِمَةٌ، وَالْآيَاتُ وَاضِحَةٌ، وَالْمَنَارُ منْصُوبَةٌ، فَأَيْنَ يُتَاهُ بِكُمْ! وَكَيْفَ تَعْمَهُونَ وَبَيْنَكُمْ عِتْرَةُ نَبِيِّكُمْ عِتْرَةُ نَبِيِّكُمْ! وَهُمْ أَزِمَّةُ الْحَقِّ، وَأَعْلاَمُ الدِّينِ، وَأَلْسِنَةُ الصِّدْقِ! فَأَنْزِلُوهُم بِأَحْسَنِ مَنَازِلِ الْقُرْآنِ، وَرِدُوهُمْ وُرُودَ الْهِيمِ الْعِطَاشِ. [2]
اے لوگو! تم کہاں جا رہے ہو؟ حق سے کیوں منحرف ہو رہے ہو؟ حق کے پرچم بلند ہیں اور اس کی نشانیاں واضح ہیں۔ ہدایت کے چراغ روشن ہیں، پھر تم گمراہوں کی طرح کہاں جا رہے ہو؟ کیوں سرگرداں ہو؟حالانکہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عترت تمہارے درمیان موجود ہے۔ وہ حق و یقین کے رہنما، دین کے پیشوا، سچائی کی زبانیں اور راست گو ہیں۔ لہٰذا انہیں قرآن کے بہترین مقامات پر جگہ دو اور ان کی طرف اس طرح بڑھو جیسے پیاسے پانی کی طرف تیزی سے لپکتے ہیں۔
جب کوئی شخص اہلبیت علیہم السلام کی طرف جائے تو اس کا پورا وجود جوش و جذبے اور محبت سے لبریز ہونا چاہئے، اور پوری ضرورت کے ساتھ ان کی طرف اس طرح دوڑ کر جانا چاہئے ؛ جس طرح پیاس کی شدت سے نڈھال پیاسے اونٹ پانی کو دیکھتے ہی پانی کی طرف دوڑنے لگتے ہیں،اور اس تک پہنچنے کی خوشی میں انہیں اس کے علاوہ کسی اور چیز کی خبر نہیں ہوتی۔ خاندان وحی علیہم السلام کے حرم میں مشرّف ہوتے وقت ہماری بھی ایسی ہی حالت ہونی چاہئے تا کہ ہم وحی کے چشموں سے سیراب ہو سکیں ، اور ان بزرگ ہستیوں کی عنایات اور علوم و اسرار سے مستفید ہو سکیں ۔








