امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
محبت ایک حیات بخش اکسیر

محبت ایک حیات بخش اکسیر

محبت صرف نفسانی و شہوانی خواہشات کو ہی ختم نہیں کرتی، بلکہ وہ انہیں اچھی صفات اور اخلاق حسنہ میں بھی بدل دیتی ہے ۔ اگر انسان میں جوانی کے عالم میں اہلبیت علیہم السلام کی محبت پیدا ہو جائے تو اس پر اس  کے بہت زیادہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ، چونکہ جوانی کے دوران انسان میں نفسانی اور شہوانی خواہشات اور رجحانات میں شدت آ جاتی ہے ۔ محبت اس طرح کے تمایلات اورخواہشات کو  الٰہی چاہت اور رحمانی الہامات میں بدل دیتی ہے ، اور اس وجہ سے جوانوں میں خاندان وحی علیہم السلام سے عقیدت کا جوش و جذبہ زیادہ واضح ہوتا ہے ۔

چونکہ ان بزرگوں کی محبت پست جذبات اور خواہشات کو اخلاق حسنہ اور پسندیدہ طرز عمل میں بدل دیتی ہے، اس لئے اہلبیت علیہم السلام کی محبت ایک اکسیر ہے۔لہٰذا آپ اہلبیت علیہم السلام کی محبت کو اپنی روح اور جان کا کیمیا سمجھ سکتے ہیں۔

ایک  اور مفید اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ غیبت کے زمانے میں اور جب دنیا پر شیطان کی حکومت ہو ، تو خدا اور اہلبیت  علیہم السلام کے لئے محبین کی محبت اور دوستی ان کی استطاعت اور توانائی کے مطابق ہے اور ان کے لئے خدا اور اہلبیت علیہم السلام کی محبت ان کی اہلیت اور صلاحیت کے مطابق ہے۔

ظہور کے زمانے میں فکری نشوونما ، عقلی تکامل اور اس میں حیرت انگیز اضافہ کی وجہ سے انسانوں کی استعداد اور توانائیوں میں وسعت آئے گی اور اس طرح انسان مکمل طور پر خدا کا محبوب ہو جائے گا اور اسی بنا پر ظہور کے زمانے کے لوگ ایسے عظیم اور حیرت انگیز مراحل تک رسائی حاصل کریں گے جو اب ہمارے لئے ناقابل تصور ہیں۔

اگر محبت کا اثر شدید ہو تو اتنا اہم ہے کہ یہ واقعی انسان کو حیران کر دیتا ہے۔ عاشورا کے دن حضرت امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کی آپ سے ایسی ہی شدید محبت تھی کہ انہوں نے نہ صرف اپنے وجود کو آپ  پرقربان کر دیا بلکہ انہوں نے امام حسین علیہ السلام کی  خواہشات کو اپنی  خواہشات بنا لیا اور درحقیقت اپنی خواہشات کو اس عظیم انسان کی خواہشات پر فناء کر دیا۔

اگر  محبت شدید ہو تو  محبّ اپنے آپ کو کس طرح  اپنے محبوب پر قربان کر سکتا ہے اور اس کے راستے میں آنے والی تمام مشکلات اور پریشانیوں کو برداشت کر سکتا ہے؟ اس  بات واضح کرنے کے لئے ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں :محبت انسان کو کس قدر بدل دیتی ہے! اس کے کتنے حیرت انگیز اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ محبّ کو محبوب کی راہ میں کتنا بدل دیتی ہے؟! اب اس بات پر توجہ فرمائیں۔ بچے کی پیدائش کے وقت ماں کے صبر کے بارے میں لکھا ہے:اگر ہوش میں رہتے ہوئے کسی کی ٹانگ ٹوٹ جائے تو اسے کتنی تکلیف ہوتی ہے ؟ اس درد سے وہ کس قدر بے تاب ہو جاتا ہے ؟ زچگی کے دوران عورت کسی کی ٹانگ ٹوٹ جانے سے تیس گنا زیادہ  درد محسوس کرتی ہے۔

وہ تمام مائیں جن کے بچے قدرتی طور پر پیدا ہوئے ہیں انہوں نے یہ تکلیف برداشت کی ہے۔ اگرچہ انہوں نے اپنے پہلے بچے کو جنم دیتے وقت یہ تمام درد اور تکلیف برداشت کی ہے، لیکن اس کے باوجود پھر بھی وہ ایک اور بچہ پیدا کرنا چاہتی ہیں، حالانکہ وہ جانتی ہیں کہ انہیں یہ ساری تکلیف پھر برداشت کرنی پڑے گی!اس درد اور تکلیف کے باوجود وہ اور بچے پیدا کرنے کے لئے کیوں تیار ہو جاتی ہیں؟! یہ اس محبت کی وجہ سے ہے جو خدا نے ماؤں کے دلوں میں ان کے بچوں کے لئے رکھی ہے۔

لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے دل میں اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کی شدید محبت پیدا کر کے اپنے دل پاک کریں تاکہ ہم امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف  کی عالمی حکومت میں خدا کی حکمرانی کی تبلیغ کے لئے کوشش کر سکیں اور اس کے ذریعہ حضرت کی مدد کریں۔

اس بحث کی مزید وضاحت کے لئے ہم اس کے بقیہ حصہ کو جاری رکھتے ہیں :  

بازدید : 301