امام علی علیہ السلام کی خدا سے ایک بہت اہم شکایت
ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ دین کی نصرت کی راہ میں قدم بڑھائے اور اپنے وقت کے امام کی خدمت کرے۔ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ اپنے وقت کے امام کی خدمت کرنا اور دین کی مدد کرنا صرف اہل علم سے مخصوص نہیں ہے ، اگرچہ اس سلسلے میں دینی مدارس پر بہت سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے جسے انہیں پورا کرنا چاہئے لیکن دوسرے لوگوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے وقت کے امام کی خدمت کریں اور دین کی مدد کے لئے قدم بڑھائیں۔امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام سے بڑھ کر کون ہمیں اس اہم فرض سے آشنا کر سکتا ہے؟
اسی لئے ہم خدا کی بارگاہ میں امیر المؤمنین علیہ السلام کی شکایت اور درد دل کو بیان کر رہے ہیں جس میں تمام محبّوں اور پوری انسانیت کے لئے ایک بہت اہم تنبیہ ہے، تاکہ سب کو معلوم ہو جائے کہ دنیا کے سب سے مظلوم انسان کی اہلبیت علیہم السلام کے تمام عاشقان اور انسانیت کا دم بھرنے والوں سے کیا توقعات ہیں ۔
امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام ان لوگوں کے بارے میں اپنا درد دل بیان کرتے ہیں جو لوگ اہلبیت علیہم السلام کے دوست اور حامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کی نصرت کے لئے کھڑے نہیں ہوتے اور دین کی حمایت نہیں کرتے۔
امیر المؤمنین علیہ السلام نہ صرف اپنے دوستوں اور چاہنے والوں سے عدل و انصاف کی حمایت کی توقع رکھتے ہیں بلکہ وہ ہر اس انسان اور بندۂ خدا سے شکوہ کرتے ہیں جو اہلبیت علیہم السلام کی حقانیت پر مبنی باتوں کو سنتا ہے لیکن خدا اور خدا کے دین کی نصرت اور حمایت سے انکار کرتا ہے۔ آپ ان کے بارے میں خدا سے شکایت کرتے ہیں اور خدا کو ان کی بے حسی اور دین کی نصرت نہ کرنے پر گواہ قرار دیتے ہیں ۔
امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام درد بھرے دل کے ساتھ خدا سے ان سب کی شکایت کرتے ہیں اور خدا کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں:
أَللَّهُمَّ أَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ سَمِعَ مَقَالَتَنَا الْعَادِلَةَ غَيْرَ الْجَائِرَةِ وَالْمَصْلِحَةَ فِي الدِّينِ وَالدُّنْيَا غَيْرَ الْمُفْسِدَةِ فَأَبَى بَعْدَ سَمْعِهِ لَهَا إِلاَّ النُّكُوصَ عَنْ نُصْرَتِكَ وَالْإِبُطَاءَ عَنْ إِعْزَازِ دِينِكَ.فَإِنَّا نَسْتَشْهِدُكَ عَلَيْهِ بِأَكْبَرِ الشَّاهِدِينِ شَهَادَةً وَنَسْتَشْهِدُ عَلَيْهِ جَمِيعَ مَنْ أَسْكَنْتَهُ أَرْضَكَ وَسَمواتِكَ، ثُمَّ أَنْتَ بَعْدُ الْمُغْنِي عَنْ نَصْرِهِ وَالْآخِذُ لَهُ بِذَنْبِهِ.[1]
خدایا! تیرے بندوں میں سے جو بھی ہمارا وہ کلام سنے جو عدل و انصاف پر مبنی ہے، نہ کہ ظلم و زیادتی پر، اور دین و دنیا کی مصلحت کے لئے ہے، نہ کہ تباہی و فساد کے راستے پر، لیکن اسے سننے کے بعد قبول کرنے سے انکار کر دے اور تیری مدد سے منہ موڑنے اور تیرے دین کو عزت اور سربلندی دینے سے گریز کرنے کے سوا کوئی کام نہ کرے، تو ہم ایسے شخص کے خلاف تجھ سے گواہی طلب کرتے ہیں، ایسی گواہی جو سب سے بڑی گواہی ہے۔[2] اور ہم ان تمام لوگوں کو بھی گواہ بناتے ہیں جنہیں تو نے اپنی زمین اور آسمانوں میں سکونت عطا کی ہے۔
پھر جب ایسا شخص تیرے دین کی مدد سے منہ موڑ لے اور سرپیچی کرے، تو ہمیں اس کی مدد سے بے نیاز کر دے اور اس کے گناہ کے سبب اس سے بازپرس کرنے والا بن جا۔
افسوس اس دن پر جب کوئی شخص اپنے آپ کو امیر المؤمنین اور اہلبیت علیہم السلام کا محبّ اور مداح سمجھتا ہو اور اسے یہ معلوم ہو جائے کہ امام نے درد بھرے دل کے ساتھ خدا سے اس کی شکایت کی ہے اور خدا کو اس کے خلاف گواہ قرار دینے کے لئے پکارا ہے۔
اگرچہ امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے یہ بات جنگ صفین کے دوران کہی تھی، لیکن ممکن ہے کہ یہ عام ہو اور اس میں دوسرے زمانے کے لوگ اور دیگر ائمہ علیہم السلام کا زمانہ بھی شامل ہو، کیونکہ یہ نہ تو جنگ صفین سے مخصوص تھا اور نہ ہی ان لوگوں کے لئے مخصوص تھا جنہوں نے ذاتی طور پر امام کی مدد سے انکار کیا تھا اور آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو میری حق بات کو سنے اور دین کی مدد و نصرت کے لئے نہ اٹھے ، بلکہ آپ نے فرمایا:
اللّهم ايّما عبد من عبادك سمع مقالتنا العادلة ...
خدایا!تیرے بندوں میں جو بھی ہمارے (نہ کہ میرے) عادلانہ اور حق پر مبنی فرامین سنے...
اميرالمؤمنين حضرت امام علی علیه السلام کی «مقالتنا» اور «انّا نستشهدك» کی تعبیر میں ہر زمانے کے امام کا قول اور شکایت شامل ہے جو لوگوں کو نصرت کے لئے پکارے لیکن وہ سستی و کاہلی کرتے ہوئے دین خدا کی نصرت نہ کریں ۔
لہٰذا اس احتمال کی بنیاد پر جو شخص بھی ائمہ معصومین علیہم السلام میں سے کسی کے زمانے میں موجود ہو اور وہ دین اور اپنے زمانے کے امام کی نصرت نہ کرے ،وہ امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی خدا سے کی گئی اس شکایت میں شامل ہے۔
لیکن اگر ہم اس احتمال کو قبول نہ کریں اور یہ کہیں کہ امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کا فرمان عام نہیں ہے اور صرف جنگ صفین کے سلسلے میں بیان ہوا ہے اور اسی زمانے کے ساتھ مخصوص ہے تو اس صورت میں ہمیں غور کرنا چاہئے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے پچیس سال کی خانہ نشینی اور اپنی ظاہری حکومت کے بعد اپنے زمانے کے لوگوں کی بے حسی کی شکایت خدا سے کی ہو، لیکن امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف نے اپنی غربت اور تنہائی کی بارہ صدیوں کے دوران خدا سے اپنے دوستوں کی کوئی شکایت نہ کی ہو؟!
اس دور میں بھی حضرت بقیۃ اللہ الأعظم ارواحنا فداہ نے بارہا اپنے دوستوں اور شیعوں کو مدد اور نصرت کے لئے پکارا ہے،پس جو کوئی آپ کی ندا پر لبیک نہیں کہتا وہ آنحضرت کی شکایت میں شامل ہوگا۔
کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ اگر ہم نے ابھی تک امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ندا پر کان نہیں دھرے تو اپنے آپ کو اس گروہ سے دور کریں جس نے امام عصر ارواحنا فداہ کی مدد نہیں کی،اور ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے علم و دانش ،مال و دولت یا کسی بھی طریقہ سے دستیاب وسائل کو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی نصرت کے لئے استعمال کریں اور خدا کے دین کی مدد کریں؟!
ہم نے اب تک امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی نصرت اور دینِ الٰہی کی مدد کے لئے کیا کیا ہے کہ جس سے ہمارا نام امیر المؤمنین علیہ السلام کی خدا سے کی گئی شکایت میں درج نہ ہو ؟
اگر ہم نے اب تک خدا کے دین کے لئے کچھ نہیں کیا اور حضرت امام مہدی ارواحنا فداہ کی نصرت نہیں کی اور اس عظیم ہستی سے غفلت برتی ہے تو آئیے خدائے بزرگ و برتر کے پاس موجود امیر المؤمنین علیہ السلام شکایت نامہ سے اپنا نام مٹانے کی کوشش کریں،اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے حضرت امام مہدی ارواحنا فداہ کی نصرت اور حمایت کے لئے قدم بڑھائیں، اپنے وقت کے امام کی تعلیمات سے اپنے دلوں کو سیراب کریں، تمام عاشقان اہلبیت علیہم السلام کو آنحضرت کی ولایت کے عظیم مقام سے آشنا اور مزید آشنا کریں اور اپنے نفس کو پاکیزہ بنا کر خود کو ظہور کے زمانے کے لئے تیار کریں۔
یہ تمام شیعوں اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے سچے چاہنے والوں کا فرض ہے کہ وہ سرور عالم کےظہور کا انتظار کریں اور ظہور کے لئے تیار رہیں۔امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے ہمیں ظہور کے زمانے کے لئے تیار رہنے کا طریقہ سکھایا ہے۔








