امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
عصر ظہور کے لئے تیاری

عصر ظہور کے لئے تیاری

امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے اپنے فرمودات میں بہت اہم نکات بیان فرمائے ہیں جن میں سے بعض زمانہ ٔغیبت کے آخری دور سے متعلق ہیں اور اسی طرح آپ نے حضرت بقیۃ اللہ الأعظم ارواحنا فداہ  کے ظہور کے باعظمت دور  کے بارے میں بھی بیان فرمایا ہے ۔

حضرت امام علی علیہ السلام نے جن خطبوں میں اس مسئلہ پر تفصیلی مطالب بیان فرمائیں ہیں ، ان میں سے ایک خطبہ ’’مخزون‘‘ ہے جسے مرحوم علامہ مجلسی نے اپنی کتاب ’’بحار الأنوار‘‘ میں نقل کیا ہے اور  چند موارد  میں اس کی وضاحت کی ہے۔

امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے اس خطبہ میں خدا کی حمد و ثنا کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   کی بعثت کو بیان کیا اور پھر  اپنے خطبہ میں امام زمانہ ارواحنا فداہ  کے ظہور  کے بارے میں اہم نکات بیان فرمائے۔ یہ ایک طویل خطبہ  ہے جس کی وجہ سے ہم اس کا ایک حصہ اس کتاب میں ذکر کریں گے تاکہ معزز قارئین اسے پڑھ کر کائنات کے پہلے مظلوم کے کلمات پر توجہ کریں  اور  اس کلام سے اپنے دلوں کو منور کرتے ہوئے خود کو  ظہور کے زمانے  کے لئے تیار کر سکیں کیونکہ وہی درخشاں زمانہ  بنی آدم  کی خلقت کے سلسلہ میں خدا کا مقصد ہے۔

امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام  نے نصرت الٰہی کی بشارت دینے کے بعد ہر ایک کو حکم دیا ہے کہ وہ خود کو اس حکم الہٰی کی آمد کے لئے تیار کریں اور یہ ایسی بشارت ہے جس سے مؤمنین کی آنکھیں منور ہو جائیں گی اور ان کے تمام رنج و غم دور ہو جائیں گے۔

امیر المؤمنین حضرت امام علی بن ابی طالب علیہما السلام اس بارے میں فرماتے ہیں :

فليعدّ امرئ لذلك عدّته، ولاعدّة له إلاّ بسبب بصيرة، وصدق نيّة، وتسليم ‏سلامة أهل الخفّة في الطاعة، ثقّل الميزان، والميزان بالحكمة، والحكمة فضاء للبصر،والشكّ والمعصية في النّار،وليسا منّا،ولا لنا، ولا إلينا، قلوب المؤمنين‏ مطويّة على الإيمان، إذا أراد الله إظهار ما فيها فتحها بالوحي، وزرع فيها الحكمة، وإنّ لكلّ شي‏ء إنّي يبلغه، لا يعجّل الله بشي‏ء حتّى يبلغ إناه ومنتهاه.فاستبشروا ببشرى ما بشّرتم به واعترفوا بقربان ما قرّب لكم، وتنجّزوا ما وعدكم، إنَّ منّا دعوة خالصة يظهر الله بها حجّته البالغة، ويتمَّ بها نعمه السابغة ويعطي بها الكرامة الفاضلة، من استمسك بها أخذ بحكمة، منها آتاكم الله‏ رحمته ومن رحمته نوّر القلوب، ووضع عنكم أوزار الذّنوب، وعجّل شفاء صدوركم وصلاح أُموركم، وسلام منّا دائماً عليكم، تعلمون به في دول الأيّام، وقرار الأرحام، فإنّ الله اختار لدينه أقواماً انتخبهم للقيام عليه، والنصرة له، بهم‏ ظهرت كلمة الإسلام، وأرجاء مفترض القرآن، والعمل بالطاعة في مشارق ‏الأرض ومغاربها. [1]

لہٰذا ہر ایک کو اس حکم الٰہی کے لئے اپنا زاد راہ تیار کرنا چاہئے اور کسی کے پاس بصیرت، خلوص نیت اور مکمل طور پر تسلیم ہونے کے سوا کوئی زاد راہ نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کی اطاعت میں نہیں تھکتے ان کے اعمال کا پلڑا بھاری ہوتا ہے۔اور ترازو کا معیار حکمت ہے اور حکمت بصیرت کی فضا ہے ،اور شک و معصیت آتش (جہنم) میں ہے، شک اور نافرمانی کرنے والے ہم میں سے نہیں ہیں اور وہ ہمارے لئے اور ہماری طرف حرکت نہیں کرتے۔ مؤمنوں کے دل ایمان میں الجھے ہوئے ہیں۔ جب خدا دلوں کے راز کھولنا چاہتا ہے تو انہیں وحی سے کھول دیتا ہے اور ان میں حکمت کے بیج بو دیتا ہے۔ ہر چیز کی ایک مدت(موت) ہوتی ہے جس تک وہ پہنچتی ہے اور خدا کسی کام میں جلدی نہیں کرتا جب تک کہ وہ اپنے مقررہ وقت اور انجام کو نہ پہنچ جائے۔لہٰذا  آپ کی دی گئی اس بشارت پر خوش ہوں ،اور اپنے پاس آنے والے  اس تقرب کا اعتراف کریں ، اور خدا نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کریں۔ ہم اہلبیت کے پاس ایک خالص دعوت ہے جس کے ذریعے خدا اپنی  حجت بالغہ کو ظاہر کرتا ہے، اپنی بے شمار نعمتوں کو مکمل کرتا ہے اور اس سے بہت زیادہ عزت و کرامت عطا کرتا ہے۔جو ان سے متمسک ہو ا، اس نے حکمت کو  پا لیا، خدا اس خالص دعوت کے ذریعے اپنی رحمت نازل کرتا ہے اور اپنی رحمت سے دلوں کو منور کرتا ہے، اور تم سے گناہوں کے داغ مٹاتا ہے، اور تمہارے سینوں کی شفاء اور تمہارے معاملات کی اصلاح میں تیزی کرتا ہے، اور ہماری طرف  سے تم پر دائمی سلام ہو ، جس کی مدد سے زمانے کی حکومتوں میں اور قرار ارحام (مقام استقرار نطقہ ) میں تمہیں  اپنی سلامتی کے بارے میں معلوم ہو گا ۔ کیونکہ خدا نے اپنے دین کے لئے اقوام کو منتخب کیا ہے تا کہ وہ اس کے دین کو برقرار رکھیں  اور اس کی مدد کریں۔ اسلام کا کلمہ اور قرآن کے واجبات انہی کی وجہ سے آشکار ہوں گے اور ان کی وجہ سے دنیا کے مشرق اور مغرب میں اطاعت الٰہی پر عمل ہو گا ۔

اس خطبہ میں موجود بہت اہم نکات پر توجہ کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کتاب میں امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام سے منقول دیگر روایات پر غور کرنا راہ حق کی جستجو کرنے  کے والوں کے لئے راہ گشا ہے ۔

 


[1] ۔ موسوعة أحاديث أميرالمؤمنين علي بن أبي طالب علیه السلام:۱ / ۳۰۸ .

بازدید : 509