امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
حرّه کی حجّاج بن یوسف ثقفی سے گفتگو

حرّه کی حجّاج بن یوسف ثقفی سے گفتگو

حلیمہ سعدیہ کی بیٹی حرّہ،  امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے محبوں اور چاہنے والوں میں سے ہیں۔ وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی رضاعی بہن ہیں اور ان کا حجاج بن یوسف ثقفی کے ساتھ ایک مناظرہ بھی ہے۔ اس مناظرے میں وہ قرآنی آیات سے استدلال کرتے ہوئے ولایت کا دفاع کرتی ہے۔

جب وہ حجاج کے پاس داخل ہوئیں تو حجاج نے پوچھا: کیا تم حلیمہ کی بیٹی حرّہ ہو؟

حرّہ نے جواب دیا: یہ تو ایک غیر مؤمن کی فراست ہے!

حجاج نے کہا:خدانے تمہیں یہاں لا کھڑا کیا ہے، کہا جاتا ہے کہ تم علی(علیه السلام) کو ابو بکر، عمر اور عثمان سے برتر سمجھتی ہو۔

حرّہ نے کہا: جن لوگوں نے یہ کہا ہے جھوٹ کہا ہے کہ میں علی (علیه السلام) کو صرف ان سے ہی برتر سمجھتی ہوں ۔

حجاج نے پوچھا: پھر تم انہیں کن کن لوگوں سے برتر سمجھتی ہو؟

حرّہ نے جواب دیا: میں علی علیہ السلام کو آدم، نوح، لوط، ابراہیم، داؤد، سلیمان اور عیسیٰ بن مریم سے بھی برتر سمجھتی ہوں۔

حجاج نے کہا: تم پر افسوس! کیا تم انہیں صحابہ اور سات بڑے انبیاء سے بھی افضل قرار دیتی ہو؟ اگر تم نے دلیل پیش نہ کی تو میں تمہارا سر تن سے جدا کر دوں گا۔

حرّہ نے کہا: میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتی بلکہ خدا نے قرآن میں انہیں ان انبیاء پر مقدم رکھا ہے ۔خدا نے آدم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

وَعَصَىٰ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَىٰ۔[1]

اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی، پس وہ بھٹک گئے۔

اور علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

وَكَانَ سَعْيُكُمْ مَشْكُورًا۔ [2]

اور تمہاری کوشش قبول کی گئی ہے۔

یعنی علی، فاطمہ، حسن، حسین اور فضہ کی سعی مقبول اور پسندیدہ قرار دی گئی ہے۔

حجاج نے کہا: بہت خوب! تم کس دلیل سے علی کو نوح اور لوط پر ترجیح دیتی ہو؟

حرّہ نے جواب میں کہا: خدا نے ان دونوں پیغمبروں کے بارے میں فرمایا ہے:

ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ ۖ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ۔[3]

خدا نے کفر اختیار کرنے والوں کے لئے زوجہ نوح اور زوجہ لوط کی مثال بیان کی ہے کہ یہ دونوں ہمارے نیک بندوں کی زوجیت میں تھیں لیکن ان سے خیانت کی تو اس زوجیت نے خدا کی بارگاہ میں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا اور ان سے کہہ دیا گیا کہ تم بھی تمام جہنمّ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔

لیکن علی علیہ السلام  کی زوجہ فاطمہ علیہا السلام ہیں کہ جن کی رضا سے خدا راضی ہوتا ہے اور جن کے غضب سے غضبناک ہوتا ہے۔

حجاج نے کہا: بہت خوب! تم کس دلیل سے علی کو ابراہیم سے برتر سمجھتی ہو؟

حرّہ نے کہا: خدا نے فرمایا ہے:

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي۔[4]

اور جب ابراہیم نے التجا کی کہ پروردگارا مجھے یہ دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے ۔ ارشاد ہوا کیا تمہارا ایمان نہیں کیا ۔ عرض کیا ایمان تو ہے لیکن اطمینان قلب چاہتا ہوں ۔

لیکن میرے مولا  امیرالمؤمنین علی علیه السلام نے فرمایا :

لَوْ كُشِفَ الْغِطَاءُ مَا ازْدَدْتُ يَقِيناً۔

 اگر پرده ہٹ جائیں تو میرے یقین میں اضافہ نہیں ہو گا۔

اور یہ بات نہ ان سے پہلے کسی نے کہی اور نہ ان کے بعد کسی نے کہی۔

 حجاج نے کہا: شاباش! تم اسے موسیٰ پر کیوں ترجیح دیتی ہو؟

حرّہ نے جواب دیا: خداد نے فرمایا:

فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ۔[5]

موسیٰ شہر (مصر) سے خوفزدہ اور دائیں بائیں دیکھتے ہوئے (شہر مدین کی جانب) باہر نکلے ۔

لیکن فرزند ابو طالب لیلة المبیت کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   کے بستر پر سوئے اور ان کے دل میں کوئی خوف نہ تھا اور خدا نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی:

وَمِنَ النَّاسِ مَن یَشْرِی نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ۔[6]

 اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو خدا کی رضا کے حصول کے لئے اپنی جان بیچ دیتے ہیں۔

حجاج نے کہا: آفرین اے حرّہ! تم اسے داؤد اور سلیمان پر کیوں ترجیح دیتی ہو؟

حرّہ نے کہا: خدا نے اسے برتر قرار دیا ہے۔ اپنی کتاب میں فرمایا ہے:

يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ۔[7]

اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں اپنا جانشین بنایاہے  لہٰذا تم لوگوں کےدرمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہشات کا اتباع نہ کرو کہ وہ راہِ خدا سے منحرف کردیں ۔

حجاج نے سوال کیا: یہ آیت حضرت داؤد کے کس فیصلے کی طرف اشارہ کرتی ہے؟

حرّہ نے کہا: ایک شخص کے پاس انگور کا باغ تھا اور دوسرے شخص کے پاس بکریاں تھیں۔ بکریاں اس کے باغ میں داخل ہو کر چرتی رہیں۔ یہ دونوں شخص شکایت لے کر حضرت داؤد کے پاس آئے۔ حضرت داؤد نے یہ فیصلہ کیا کہ بکریاں بیچ دی جائیں اور ان کی قیمت سے انگور کے باغ کو دوبارہ آباد کیا جائے تاکہ باغ اپنی پہلی حالت میں آ جائے۔

حضرت داؤد کے بیٹے حضرت سلیمان نے کہا: بابا! بہتر یہ ہے کہ بکریوں کے دودھ سے باغ کے مالک کو فائدہ دیا جائے تاکہ وہ باغ کی مرمت کر سکے۔

خدا نے فرمایا:

فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ۔[8]

 ہم نے وہ بات سلیمان کو سمجھا دی۔

امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام  فرماتے ہیں: مجھ سے پوچھو۔

عرش کے اوپر کی باتوں کے بارے میں مجھ سے سوال کرو، اور عرش کے نیچے کی باتوں کے بارے میں بھی مجھ سے سوال کرو، اس سے پہلے کہ تم مجھے کھو دو۔سلونی قبل ان تفقدونی۔

اور اسی طرح جنگ خیبر کے دن وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے حاضرین سے فرمایا: تم میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم والا اور بہترین فیصلہ کرنے والا علی علیہ السلام ہے۔

حجاج نے کہا: شاباش! تم انہیں سلیمان سے برتر کیوں سمجھتی ہو؟

حرّہ نے جواب دیا: سلیمان نے خداسے دعا کی:

رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي۔[9]

 اے میرے رب! مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لئے سزاوار نہ ہو۔

لیکن علی علیہ السلام نے فرمایا: اے دنیا! میں نے تجھے تین بار طلاق دے دی ہے اور مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں۔ پھر ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:

تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا۔[10]

دار آخرت وہ ہے جسے ہم ان لوگوں کے لئے قرار دیتے ہیں جو زمین میں بلندی اور فساد کے طلبگار نہیں ہوتے ہیں ۔

حجاج نے ان کی تعریف کی اور کہا: تم اسے عیسیٰ سے برتر کیوں سمجھتی ہو؟

حرّہ نے کہا:خدا نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا ہے:

وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَٰهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۖ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ ۚ إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ ۚ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ. مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ۔[11]

اور (یاد کرو) جب خدا نے عیسٰی بن مریم  سے کہا کہ کیا تم نے لوگوں سے یہ کہہ دیا ہے کہ خدا کو چھوڑ کو مجھے اور میری ماں کو خدا مان لو؟ تو عیسٰی نے عرض کی کہ تیری ذات بے نیاز ہے میں ایسی بات کیسے کہوں گا جس کا مجھے کوئی حق نہیں ہے اور اگر میں نے کہا تھا تو تجھے تو معلوم ہی ہے کہ تو میرے دل کا حال جانتا ہے اور میں تیرے اسرار نہیں جانتا ہوں۔ بیشک تو غیب کے تمام اسرار جاننے والا ہے۔ میں نے ان سے صرف وہی کہا ہے جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا۔

عیسیٰ علیہ السلام نے اُن لوگوں کے بارے میں فیصلہ قیامت کے دن پر چھوڑ دیا جنہوں نے انہیں خدا قرار دیا تھا، لیکن علی علیہ السلام نے اُن لوگوں کا محاکمہ کیا اور انہیں قتل کیا جو ان کے بارے میں غلو کرتے تھے۔ یہ علی علیہ السلام کے فضائل ہیں، اور دوسروں کو ان پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔

حجاج نے کہا: شاباش! تم نے اچھا جواب دیا، ورنہ میں تمہیں سزا دیتا۔ پھر اس نے ان کی عزت کی اور انہیں انعام دیا۔[12]

 


[1] ۔سورۂ طہ ، آیت  :۱۲۱.

[2] ۔سورۂ انسان ، آیت :۲۲.

[3] ۔سورۂ تحریم ، آیت :۱۰.

[4] ۔سورۂ بقرہ، آیت :۲۶۰.

[5] ۔سورۂ قصص، آیت :۲۱.

[6] ۔سورۂ بقرہ، آیت :۲۰۷.

[7] ۔سورۂ ص، آیت :۲۶.

[8] ۔سورۂ انبیاء، آیت :۷۹.

[9] ۔سورۂ ص، آیت :۳۵.

[10] ۔سورۂ قصص، آیت :۸۴.

[11] ۔سورۂ مائدہ، آیت :۱۱۶ اور ۱۱۷.

[12] ۔ مجمع البیان (طبرسی) :۵/۴۰۶.

بازدید : 725