حضرت امیرالمؤمنین علیه السلام کی قدرت کا ایک نمونہ
سلمان فارسی رحمۃ اللہ علیہ [1]نے فرمایا: ایک انصاری عورت تھی جسے ام فروہ کہا جاتا تھا۔ وہ صحابہ کے گھروں میں جاتی اور لوگوں کو ابوبکر کی بیعت توڑنے پر آمادہ کرتی اور حضرت امیرالمؤمنین و یعسوب المسلمین علی بن ابی طالب علیہما السلام کی بیعت اور اتباع کی ترغیب دلاتی تھی۔
جب ام فروہ کی باتیں ابوبکر تک پہنچیں تو اس نے اسے بلایا اور کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم مجالس و محافل میں ایسی باتیں کرتی ہو جو میری بیعت کو توڑنے کا سبب بنتی ہیں، اس سے توبہ کرو۔
اس نے کہا: کیا تم مجھے سچی بات کہنے سے توبہ کروا رہے ہو ، اور خود خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت اور لوگوں کو گمراہ کرنے سے توبہ نہیں کر رہے؟
ابوبکر اس بات پر سخت ناراض ہوا اور کہا: اے خدا کی دشمن! کیا تم چاہتے ہو کہ وہ جماعت جس نے میری امامت پر اجماع کیا ہے اسے متفرق کر دوں؟ کیا تم میری امامت پر ایمان نہیں رکھتی؟
اس نے کہا: اے…! تم میرے امام نہیں ہو۔ تم ان کے امام ہو[2] جنہوں نےتمہیں اختیار کیا ہے، اور بے وفا اور فانی دنیا کی خاطر تمہاری طرف مائل ہوئے ہیں۔ اگر انہیں تم سے معمولی بھی تکلیف پہنچے تو وہ تم سے منہ موڑ لیں گے۔
لیکن امامت سے مخصوص امام وہ ہوتا ہے جو حکمِ خدا اور نصِ صاحبِ نبوت کے مطابق امام ہو؛ جو کبھی اپنی طرف سے تکبر و تحکم اور زور سے بات نہ کرے اور نہ ہی حکمِ خدا اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قول سے روگردانی کرے۔ وہ تمام پوشیدہ اسرار سے باخبر ہوتا ہے، دھوپ اور چاندنی رات میں اس کا سایہ نہیں ہوتا ۔
اور یہ جائز نہیں کہ وہ شخص امام ہو جس نے بت پرستی کی ہو، یا جس نے عمر کا ایک حصہ کفر و شرک میں گزارا ہو اور بعد میں اسلام کا اظہار کیا ہو، وہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا خلیفہ اور جانشین بن جائے۔اے ابی قحافہ کے بیٹے! دیکھو تم ان میں سے کون ہو؟
ابوبکر نے کہا: میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں خدا نے اپنے بندوں کی مصلحت کے لئے منتخب کیا ہے اور جن کی اطاعت مخلوق پر واجب کی گئی ہے۔
ام فروہ نے کہا: خدا کی قسم! تم نے جھوٹ بولا ہے اور خدا پر بہتان باندھا ہے۔ اگر تم ان میں سے ہوتے[3] تو خدا اپنی کتاب قرآن میں تمہارا ضرور ذکر فرماتا، جیسے اس نے ان کے بارے میں فرمایا ہے:
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ۔[4]
اگر تم انہی میں سے ہو (اور امامت کے اسرار کے عالم ہو) تو بتاؤ کہ آسمانوں کے نام کیا ہیں اور ہر ایک کو کس نام سے پکارا جاتا ہے؟
ابوبکر کچھ دیر سوچ میں پڑ گیا اور پھر کہا: جس خدا نے خلق کیا ہے وہی بہتر جانتا ہے۔
امّ فروہ نے کہا: اگر عورتوں کے لئے مردوں کو تعلیم دینا جائز ہوتا تو میں تمہیں تعلیم دیتی۔
اس نے کہا: اے خدا کی دشمن! اگر تم آسمانوں میں سے ہر ایک کا نام بتا دو تو نجات پا جاؤ گی، ورنہ میں حکم دوں گا کہ تمہیں قتل کر دیا جائے۔
امّ فروہ نے کہا: اے ابو قحافہ کے بیٹے! کیا تم مجھے قتل سے ڈراتے ہو؟ خدا کی قسم! مجھے اس بات کا کوئی خوف نہیں کہ میں تم بے دین کتے کے ہاتھوں قتل کر دی جاؤں۔
جان لو ! پہلے آسمان کا نام ایلول ہے، دوسرے کا ریعول[5]، تیسرے کا سحقوم[6]، چوتھے کا دیلول[7]، پانچویں کا ماین، چھٹے کا ماحیر [8]اور ساتویں کا ایوس[9] ہے۔
جب ابوبکر اور اس کے ساتھیوں نے یہ باتیں سنیں تو حیران رہ گئے اور کہا: تم امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہم السلام کے بارے میں کیا کہتی ہو، جو امیرالمؤمنین، امام المتقین اور یعسوب المسلمین ہیں؟
امّ فروہ نے کہا: میں اس ہستی کے بارے میں کیا کہہ سکتی ہوں جو امام برحق ، وصی مطلق، برگزیدہ رسول کے وارث، بتول زہرا علیہا السلام کے شوہر اور ائمۂ ہدیٰ کے پدر ہیں؛ وہ ذات کہ جن کے نور کی تابانی سے آسمان و زمین روشن ہیں، اور جن کی معرفت کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوتا، اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد ان کے سوا کوئی امام نہیں۔
افسوس ہے تجھ پر، اے ابی قحافہ کے بیٹے! تو نے ایمان کی نقد دولت کو غرور و فریب کی دنیا کے عوض فروخت کر دیا، تم نے اس پست دنیا کی طرف آنکھیں لگا رکھی ہیں، اور حرص و طمع کی وجہ سے اپنی ہستی کو جلا ڈالا ہے۔
جب ابوبکر نے یہ توہین آمیز باتیں سنیں تو وہ غصے میں آگ بگولا ہو گیا ۔ اس نے اپنے پیروکاروں اور اپنے ملعون ساتھیوں سے کہا:یہ عورت اس وقت اپنے زمانے کے امام کے خلاف خروج کر چکی ہے اور دین سے خارج ہو گئی ہے۔ پھر اس نے اپنے غلاموں میں سے ایک کو حکم دیا کہ اس نیک اور راست گو خاتون کو قتل کر دے۔
امّ فروہ کے رشتہ داروں نے اسے اس کے گھر میں دفن کر دیا۔
امیرالمؤمنین، امام المتقین ،یعسوبِ مسلمین حضرت امام علی علیہ السلام ایک کھیت میں تشریف فرما تھے۔ اس واقعے کے تین روز بعد آپ مدینہ کی طرف متوجہ ہوئے۔
سلمان رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بیان کرتے ہیں: میں نے امّ فروہ کا واقعہ حضرت شاہِ ولایت کی خدمت میں عرض کیا۔ آپ امّ فروہ کے گھر کی طرف روانہ ہوئے اور میں بھی آپ کی خدمت میں ساتھ تھا، یہاں تک کہ ہم امّ فروہ کی قبر پر پہنچے۔
قبر کے چاروں طرف چار سفید پرندے تھے، جن کی چونچ سرخ رنگ کی تھیں۔ ہر ایک کی چونچ میں انار کے دانے کی مانند ایک یاقوتی دانہ تھا۔ وہ پرندے قبر میں داخل ہوتے اور پھر باہر نکل آتے تھے۔
جب انہوں نے حضرت شاہِ ولایت کو دیکھا تو اپنے پر پھیلا دیئے، سب نے مل کر آواز بلند کی اور اس ولایت مآب ہستی کی خدمت میں کچھ عرض کیا۔
امیرالمؤمنین حضرت امام علی بن ابی طالب علیہما الصلوٰۃ والسلام نے ان کی زبان میں انہیں جواب دیا۔ اس کے بعد فرمایا: ان شاء اللہ تعالیٰ میں ایسا کروں گا۔
پھر آپ امّ فروہ کی قبر کے سامنے کھڑے ہوئے،دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور کہا:
«یا مُحیی النُّفوس بَعدَ المَوتِ وَیا مُنشِیءَ العِظامِ الدَّراساتِ أَحی لَنا أُمَّ فَروةَ وَاجعَلها عِبرةً لَمِن عَصاک» ۔ اے موت کے بعد جانوں کو زندہ کرنے والے! اور اے بکھری ہوئی ہڈیوں کو دوبارہ اٹھانے والے! ہمارے لئے امّ فروہ کو زندہ فرما، اور اسے اس شخص کے لئے عبرت بنا دے جو تیری بارگاہ میں نافرمانی کا مرتکب ہوا ہے۔
اچانک ایک غیبی آواز سنائی دی اور کہا گیا:یا امیرالمؤمنین! جو چاہیں حکم فرمائیں۔
اس کے بعد امیرالمؤمنین حضرت امام علی بن ابی طالب علیہما السلام نے قبر کی طرف اشارہ فرمایا۔ قبر شق ہوئی اور امّ فروہ قبر سے باہر آگئیں۔ انہوں نے جنت کے سندس کا سبز لباس زیبِ تن کر رکھا تھا۔
انہوں نے عرض کیا: ’’یا مولای! ابی قحافہ کے بیٹے نے چاہا کہ آپ کے نور کو بجھا دے، لیکن خدائے عزوجل نے آپ کی قدر و منزلت کو ظاہر فرما دیا اور اس آیتِ کریمہ کے مضمون کو تمام اہلِ عالم کے گوش گزار کر دیا:
وَاللهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ۔[10]
اور خدا اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا، اگرچہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار گزرے۔
راوی بیان کرتا ہے کہ جب یہ خبر ابوبکر اور عمر تک پہنچی تو وہ انتہائی ذلیل و رسوا اور سخت شکست خوردہ ہوگئے، اور ان کے بدبخت انجام کے آثار ان کی زندگی میں ہی ظاہر ہونے لگے۔
حضرت شاہِ ولایت نے امّ فروہ کو ان کے شوہر کے گھر بھیج دیا۔ اس کے بعد ان کے ہاں مزید دو بیٹے پیدا ہوئے۔ اور وہ حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شہادت کے بعد بھی وہ مزید چھ ماہ تک زندہ رہیں۔[11]،[12]
[1] ۔ بحارالانوار وخرائج : «روی عن سلیمان الاعمش عن سمرة بن عطیة عن سلمان الفارسی قال: ... ».
[2] ۔ خ ص ؛ «آن سگانی که».
[3] ۔ خ الف : «اگر تم جماعت کے ذریعہ ہوتے »، خ ص : «اگر تم اجماع کے ذریعہ ہوتے»..
[4] ۔ سورۂ سجدہ، آیت : ۲۴.
[5] ۔ بحارالانوار : «ربعول».
[6] ۔ بحارالانوار: «ذَیلول».
[7] ۔ بحارالانوار: «ماجیر» ، خ ص : «ماحین»، متن موافق نقل خ ب و خرائج است.
[8] ۔ خ ص : «مایوس»،
[9] ۔یہ عبارت بحار الأنوار کے مطابق ہے.
[10] ۔ سورۂ صف، آیت :۸.
[11] ۔ بحارالأنوار:۴۱ /۱۹۹ –۲۰۱ باب ۱۱۰ ح ۱۳، خرائج : ۲/۵۴۸ اور ۵۴۹ سے منقول ، فی اعلام امیرالمؤمنین علیه السلام ح ۹.
[12] ۔ زبدة التصانیف : ۲ /۱۲۷.








