حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام اور ابن ملجم لعنة اللہ علیہ
ابوالفرج بیان کرتے ہیں: محمد بن حسین اشنانی اور ان کے علاوہ دیگر افراد نے علی بن منذر طریقی، انہوں نے ابن فضیل سے، انہوں نے فطر سے، اور انہوں نے ابوالطفیل سے میرے لئے روایت نقل کی ہے۔ ابوالطفیل بیان کرتے ہیں:
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا۔ عبدالرحمن بن ملجم لعنة اللہ علیہ بھی بیعت کرنے کے لئے آیا۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اسے دو یا تین مرتبہ واپس کر دیا، پھر اپنا دستِ مبارک آگے بڑھایا اور عبدالرحمن نے آپ سے بیعت کر لی۔
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے اس سے فرمایا:اس امت کے سب سے بدبخت شخص کو اپنے کام سے کس چیز نے روک رکھا ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، عنقریب بلاشبہ یہ داڑھی میرے سر کے خون سے رنگین ہوگی۔
پھر آپ نے یہ دو اشعار پڑھے:’’موت کے لئے اپنی کمر کے بند مضبوط کرلو، کیونکہ موت تم سے ملنے والی ہے، اور جب موت تمہاری وادی میں آ پہنچے تو بے قراری نہ کرنا۔‘‘
ابوالفرج کہتے ہیں: ہمارے لئے اس سلسلۂ اسناد کے علاوہ دوسرے طریقوں سے بھی یہ روایت نقل ہوئی ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے لوگوں کے وظائف اور عطیات ادا فرمائے۔ جب ابن ملجم کی باری آئی تو آپ نے اس کا وظیفہ بھی ادا فرمایا اور اس سے مخاطب ہو کر یہ شعر پڑھا:’’میں اس کی زندگی چاہتا ہوں، جبکہ وہ میرے قتل کا ارادہ رکھتا ہے؛ اس مرادی دوست کے بارے میں کون عذر پیش کرے گا؟‘‘[1]








