ظہور کے زمانے میں انسانی سماج
ظہور کے زمانے میں انسانی سماج عالمی امن ، آرام و سکون اور تکامل کا نظارہ گر ہو گا ۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ اس زمانے میں دین کی حکومت اور احکاماتِ الٰہی کے نفاذ کی وجہ سے دنیا پر خوشی و مسرت اور شادمانی چھا جائے گی ۔
جی ہاں ! اس زمانے میں انسانی سماج ان تمام چیزوں کا نظارہ کرے گا کہ جن کی وہ کئی صدیوں سے مختلف مکاتب اور ادیانِ الٰہی سے توقع کر رہا تھا۔
اس زمانے میں دنیا کے تمام ادیان ، منجملہ یہودی ، عیسائی زرتشتی ،بودائی اور دوسرے ادیان اور انسانی مکاتب کے معتقدین اسلام کے حیات بخش مکتب کا رخ کریں گے اور حضرت بقيّة الله الاعظم ارواحنا فداه اور آپ کے جانثار ساتھیوں کی رہنمائی سے دنیا کے تمام لوگ خاندان وحی علیہم السلام کے حیات بخش مکتب کے پیروکار بن جائیں گے ۔
اس زمانے میں وہ سب لوگ یہی کہیں گے : کاش ! عالمِ بشریت کو نجات دینے والا جلد ظہور کر لیتا اور صرف ہم ہی نہیں بلکہ ہمارے آباء و اجداد بھی گمراہی کی وادیوں سے نکل کر شیطان اور شیطانی رہبروں کے جال سے نجات حاصل کر لیتے ۔








