حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
۲۔ امیر المومنین حضرت امام علی علیہ السلام کے ظاہری مقام کا ایک گوشہ

۲۔ امیر المومنین حضرت امام علی علیہ السلام کے ظاہری مقام کا ایک گوشہ

امیر المؤمنین حضرت  امام علی علیہ السلام نے لوگوں کے علم و فہم کو بڑھانے کے لئےبارہا  ان سے کہا:’’سلوني قبل أن تفقدوني ‘‘مجھ سے پوچھو، اس سے پہلے کہ تم  مجھے کھو دو۔

لیکن بدقسمتی سے آپ کی خدمت میں موجود لوگوں کو  علوم و اسرار اور معارف دین سیکھنے  میں کوئی دلچسپی نہیں تھی  اور آپ  کے خاص اصحاب محرمانہ طور پر امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے لامتناہی علم سے مستفید ہوتے تھے۔

خوش قسمتی سے مولائے کائنات حضرت امام علی علیہ السلام کی عظیم شخصیت کی شہرت حجاز اور عرب کی سرحدوں سے باہر پھیل چکی تھی اور اس وقت دنیا کے بہت سے مفکرین آپ کی علمی شخصیت کی عظمت سے آگاہ ہو چکے تھے۔

اس وقت ایران میں جندی شاپور یونیورسٹی مشرق کی سب سے بڑی یونیورسٹی تھی اور اس یونیورسٹی کے اساتید امیر المؤمنین حضرت  امام علی علیہ السلام سے ملاقات کے خواہشمند تھے تاکہ وہ  آپ کے علم کے سمندر سے مستفید ہو سکیں۔ اس وجہ سے انہوں نے آپ کو جندی شاپور یونیورسٹی میں آنے کی دعوت دی تا کہ وہ آپ کے بے پناہ علم سے استفادہ کر سکیں۔

مراجعین : 2