لوگ جنگ اور خونریزی میں کیوں گرفتار ہیں؟!
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں تاریخ میں لوگ بہت ساری جنگوں کا شکار ہوئے اور دنیا کے بہت سے لوگوں کا خون بہایا گیا ؟
کیوں پہلی اور دوسری جنگ عظیم نے لاکھوں لوگوں کی جان لے لی؟
کیا تیسری جنگ عظیم قریب ہے اور اربوں انسانوں کی جان کو خطرہ لاحق ہے؟
کیوں زمانۂ قدہم سے لے کر مستقبل قریب تک لوگ طاقتوروں اور ظالم حکومتوں کے مقاصد کے لئے قربان ہو رہے ہیں؟!
یہ سارا ظلم و ستم کس لئے ہو رہا ہے؟ اور کیوں فتنے بازوں کا بازار اتنا گرم ہے؟
اس سوال کے جواب میں کہنا چاہئے: صرف ظالم اور خونریز حکومتیں ہی جنگوں اور قتل و غارت کی وجہ نہیں ہیں، بلکہ گناہ گار اقوام جو خدا اور اہلبیتِ رسالت علیہم السلام سے دور ہو چکی ہیں اور ان کے اقوال و احکامات کو بھول گئی ہیں، وہ بھی دنیا میں جنگ و جدال اور قتل و غارت میں کردار ادا کرتی ہیں۔
ہمیں اس بات کا یقیناً معتقد ہونا چاہئے کہ خونخوار اور ظالم افراد کے اقتدار میں آنے کی ایک اہم وجہ وہ قومیں ہیں جو یا تو راہِ حق سے دور ہو گئی ہیں یا اگر سیدھے راستے پر بھی ہیں تو عمل و کردار کے لحاظ سے وہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو صراط مستقیم پر نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے اہلبیت علیہم السلام کی روایات میں ذکر ہوا ہے کہ تم پر حکومت کرنے والے بھی تمہاری طرح ہی ہوں گے ۔
جب امیر کائنات حضرت امام علی علیہ السلام کی کوفہ میں حکومت تھی تو کوفہ اور دیگر شہر وں (جن پر آپ کی حکومت تھی) کے لوگ آپ کی اطاعت اور پیروی سے گریز کرتے تھے اور آپ کے فرامین اور احکامات کو اہمیت نہیں دیتے تھے۔
وہ لوگ اپنی بدکرداری اور ناپسندیدہ رویوں سے عالمِ وجود کے سب سے مظلوم شخص کا دل دکھاتے تھے، اور نتیجتاً امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی باتوں کو اہمیت نہ دینے ، گناہوں اور حرام کاموں کو انجام دینے کی وجہ سے وہ پستی اور تنزلی کا شکار ہو گئے،اور پھر یہ ہوا کہ دنیا کی سب سے عظیم شخصیت کے بجائے ظالم و جابر اور خونریز لوگ ان پر مسلط ہو گئے ، جن کی نظر میں ان کی جان، مال اور ناموس کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ اس کے بجائے کہ عالمِ وجود کی عظیم ترین ہستی ان پر حکومت کرتی ، تاریخ کا سب سے خونخوار شخص ان پر حکومت کرنے کے لئے منتخب ہوا، جس نے وہاں کے لوگوں پر اتنا ظلم کیا کہ اس کے شرمناک اعمال نے تاریخِ انسانیت کو سیاہ کر دیا۔
امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کا قلبِ مبارک لوگوں کے اعمال اور رویّوں کی وجہ سے مجروح تھا،آپ نے ان کے لئے اس حقیقت کی پیشنگوئی فرمائی اور لوگوں کو ان کے تاریک مستقبل سے آگاہ کیا، لیکن اس کے باوجود اس عظیم ہستی کی رہنمائی بھی ان سنگدل لوگوں پر اثرانداز نہ ہو سکی، یہاں تک کہ حجاج جیسے افراد اور دیگر ظالم حکمرانوں نے ان پر حکومت کی۔
امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خصوصیات بیان کرنے اور اپنے اصحاب کو نصیحت کرنے کے بعد یوں ارشاد فرمایا:
أماوالله؛ليُسلَّطنَّ عليكم غلام ثقيف الذَّيّال، (الميّال) يأكلخَضِرَتَكُم ويُذيبُ شَحْمَتَكُم، اِيهٍ أَباوذَحَة. [1]
آگاہ ہو جاؤ، خدا کی قسم! تم پر قبیلۂ ثقیف [2]کا ایک شخص مسلط ہوگا، جو متکبر اور ظالم ہوگا، حق و انصاف سے منہ موڑنے والا ہوگا۔ وہ تمہارا مال ہڑپ کر لے گا اور تمہارے جسموں کی چربی پگھلا دے گا۔ ابو وذحہ! جو کچھ تمہارے بس میں ہے لے آؤ۔
نهج البلاغه کے تمام شارحین کی نظر میں مذکورہ فرمان حجّاج بن یوسف ثقفی کے بارے میں ہے ۔
مسعودى نے ’’ مروج الذهب‘‘ میں کہا ہے : حجاج کی پیدائش کے وقت اس کے مقعد میں سوراخ نہیں تھا اور وہ دودھ پینے کے لئے کسی عورت کا پستان منہ میں نہیں لیتا تھا۔ شیطان اس کی ماں کے سابق شوہر حارث بن کلدہ کی شکل میں آیا اور کہا: کالی بھیڑ کی قربانی کرو اور اس کا خون ان کے منہ میں ڈالو اور اس کے چہرے پر بھی وہی خون لگاؤ۔ چوتھے دن تک وہ عورتوں کا پستان اپنے منہ میں لے گا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ لہٰذا حجاج کے پاس خون بہانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا اور وہ کہتا تھا: میرے لئے’’خون بہانا‘‘ ہی سب سے بہترین لذت ہے۔[3]
سید شريف رضى «وَذَحه» کی مختصر شرح میں کہتے ہیں: وذحه وہی ’’ خُنفَساء‘‘ ہے اور اميرالمؤمنين حضرت امام علی علیه السلام نے اپنے اس فرمان میں حجّاج کی طرف اشارہ کیا ہے ۔اس جانور کے ساتھ حجّاج کا ایک واقعہ ہے ، جس کاذکر یہاں مناسب نہیں ہے ۔
خنفساء ایک چھوٹے سے کیڑے کا نام ہے جو ڈستا ہے اور اسی کے نام پر حجّاج کا نام رکھا گیا تھا ۔
ابن ابى الحديد کا بیان ہے :ایک دن ایک چھوٹا سا کیڑا حجّاج کے مصلّے (نماز کی جگہ) کی طرف آیا۔حجّاج نے اس کیڑے کو اپنے مصلّے سے دور کرنے کی کوشش کی ،لیکن وہ کیڑا دوبارہ حجّاج کی طرف بڑھا۔اس موقع پر حجّاج نے اپنے ہاتھوں سے کیڑے کو پکڑ کر مسل دیا،لیکن کیڑے نے اس کے ہاتھ کو کاٹ لیا۔حجّاج کا ہاتھ سوج گیا اور اسی کے سبب وہ مر گیا۔
کوفہ پر بنی ثقیف کے تین افراد نے حکومت کی:
۱۔ مختار بن ابی عبید ثقفی۔
۲۔حجّاج بن یوسف ثقفی،جو عبدالملک بن مروان کی خلافت کے دوران حاکم تھا۔
۳۔ یوسف بن عمر ثقفی، جو ہشام بن عبدالملک کے دورِ خلافت میں کوفہ کا گورنر تھا۔
حجّاج بن یوسف اپنے زمانے کے بہت سے سادات، علماء، زہّاد اور عام لوگوں کا قاتل تھا،اور یوسف بن عمر، حضرت امام سجاد علیہ السلام کے بیٹے زید بن علی علیہ السلام کا قاتل تھا۔
مسعودی نے’’مروج الذہب‘‘میں لکھا ہے:ایک دن حجّاج نے عبداللہ بن ہانی (جو یمن کے قبائل میں سے ’’قبیلہ اَود‘‘ [4]سے تعلق رکھتا تھا اور اپنی قوم کے اشراف میں شمار ہوتا تھا اور ہر جنگ میں حجّاج کے ہمراہ ہوتا تھا حتیٰ کہ وہ خانہ کعبہ پر حملے اور بیت اللہ الحرام کو آگ لگانے کے موقع پر بھی وہ حجّاج کے ساتھ تھا اور اس کے قریبی اور وفادار ساتھیوں میں شامل تھا) سے کہا: اے عبداللہ! خدا کی قسم، ہم نے ابھی تک تمہیں تمہارا صلہ نہیں دیا۔اسی مقصد سے حجّاج نے اسماء بن خارجہ کو بلایا،جو قبیلۂ فزارہ کے سرداروں میں سے تھا،اور اس سے کہا:اپنی بیٹی کو عبداللہ بن ہانی کے نکاح میں دے دو۔
اسماء بن خارجہ نے کہا:خدا کی قسم! اے امیر! یہ کام مناسب نہیں ہے۔(کیونکہ عبداللہ بہت ہی بدصورت اور معیوب تھا)۔
حجّاج نے اپنا تازیانہ طلب کیا،تو اسماء نے ڈر کے مارے کہنے لگا: ٹھیک ہے، جیسا امیر کا حکم ہو۔اور پھر اپنی جوان بیٹی کو عبداللہ بن ہانی کے نکاح میں دے دیا۔
اس کے بعد حجّاج نے سعید بن قیس ہمدانی کو طلب کیا،جو یمن کے بعض قبائل کا سردار اور بزرگ تھا۔جب سعید حجّاج کے پاس حاضر ہوا تو حجّاج نے اس سے بھی کہا: اپنی بیٹی کو عبداللہ بن ہانی کے نکاح میں دے دو۔
سعید بن قیس، حجّاج کے اس بیہودہ مانگ سے حیران تھا، اس نے کہا:اے امیر! میں اپنی بیٹی’’ اُود‘‘ قبیلے کے ایک شخص کو دوں؟ خدا کی قسم! میں یہ کام کبھی نہیں کروں گا۔
حجّاج نے کہا: میری تلوار لے آؤ!
جب سعید نے یہ سنا تو کہا: مجھے اجازت دیں کہ میں اپنے لوگوں سے مشورہ کر لوں۔
پھر وہ حجّاج کی مجلس سے باہر چلا گیا اور اس کی ناحق درخواست کو اپنی قوم کے سامنے بیان کیا۔
انہوں نے کہا:اے سعید! اپنی بیٹی دے دو اور اپنی جان بچاؤ، تاکہ یہ فاسق شخص تمہیں قتل نہ کر دے۔سعید بن قیس واپس حجّاج کے پاس آیا اور کہا:میں اپنی بیٹی کو عبداللہ کے نکاح میں دیتا ہوں۔
پس یوں حجّاج بن یوسف نے دو عرب قبائل کے سرداروں کی بیٹیوں کو عبداللہ بن ہانی کے نکاح میں دے دیا ، جو اس کی وفاداری اور ظالمانہ خدمات کا انعام تھا تاکہ وہ اس کی قدر دانی کر سکے۔
ایک دن حجّاج نے عبداللہ بن ہانی کی طرف رخ کر کے کہا:اے عبداللہ! میں نے تمہارے نکاح میں بنی فزارہ کے سردار کی بیٹی، ہَمدان کے سردار کی بیٹی، اور کہلان کے بزرگ کی بیٹی دی ہے،لیکن قبیلۂ اَود کی ان قبائل سے کیا نسبت؟ یعنی عبداللہ بن ہانی کا تعلق قبیلہ اَود سے تھا، جو پست اور کم حیثیت تھا۔
عبداللہ نے حجّاج کی طرف دیکھ کر کہا:خدا امیر کو ہدایت دے ، ایسی بات مت کریں!کیونکہ ہماری قوم کے ایسے فضائل ہیں جو عرب کے کسی اور قبیلے میں نہیں پائے جاتے ۔
حجّاج نے کہا : وہ کون سے فضائل ہیں؟
عبداللہ نے کہا:ہماری پوری قوم میں کبھی کسی نے امیرالمؤمنین عثمان کو گالی نہیں دی۔
حجّاج نے کہا:خدا کی قسم! تم نے سچ کہا،یہ واقعی ایک فضیلت ہے۔
عبداللہ بن ہانی نے کہا:ایک اور فضیلت یہ ہے کہ صفّین کی جنگ میں ہمارے قبیلے کے ستر افراد امیرالمؤمنین معاویہ! کے ساتھ تھے،اور ہم میں سے ابوتراب (یعنی امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام) کے ساتھ صرف ایک شخص تھا، اور جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ وہ بھی ایک برا آدمی تھا!
حجّاج نے کہا:خدا کی قسم! یہ بھی ایک فضیلت ہے۔ اور کوئی فضیلت؟
عبداللہ نے کہا:ہم میں سے کسی نے کبھی ایسی عورت سے شادی نہیں کی جو ابوتراب ( امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام) کو دوست رکھتی ہو!
حجّاج نے کہا:یہ بھی ایک فضیلت ہے۔
عبداللہ نے مزید کہا: ہماری قوم کی کوئی عورت ایسی نہیں ہے جس نے یہ نذر نہ مانی ہو کہ اگر حسین بن علی (علیہما السلام) قتل ہو گئےتو وہ دس اونٹ قربان کرے گی ،اور پھر ان سب نے اپنی نذر پوری کی!
حجّاج بن یوسف نے کہا:بہت خوب، یہ بھی ایک فضیلت ہے۔
عبداللہ نے کہا:جب ہمارے قبیلے (قبیلۂ اود) میں سے ہر ایک کو کہا گیا کہ ابوتراب (حضرت امام علی علیہ السلام) کو دشنام دو،تو ہم نے یہ کام کیا اور اس کے ساتھ ساتھ حسن و حسین (علیہماالسلام) کو اور ان کی والدہ کو بھی دشنام دیئے !!
حجّاج نے کہا:خدا کی قسم! یہ بھی تمہارے لئے ایک فضیلت ہے۔
آخر میں، عبداللہ بن ہانی نے کہا:اے امیر! عرب کے کسی بھی فرد میں ہماری ملاحت ، خوبصورتی اور دلکشی نہیں ہے!
یہ کہتے ہوئے وہ ہنس پڑا،کیونکہ وہ بہت بدصورت، سیاہ، چھیدوں والا چہرہ، کج دہن، اور بدصورت شکل کا حامل تھا،اور اس کا حلیہ واقعی خوفناک تھا۔[5]
مسعودی کہتے ہیں:جب شام پر عبدالملک مروان کی حکومت قائم ہوئی تو اس نے اپنےساتھیوں سے کہا: عراق (کوفہ اور بصرہ) کا انتظام کون سنبھالے گا؟ حجّاج بن یوسف کے سوا کسی نے جواب نہیں دیا، اس نے کھڑے ہو کر کہا : میں عراق کو تمہارے لئے قابو میں کر سکتا ہوں۔
عبدالملک نے توجہ نہیں دی، اور وہی سوال دوبارہ دہرایا، اور ایک مرتبہ پھر وہی سوال کیا ۔ہر بار حجّاج کے سوا سب خاموش رہے ، اس نے ہر بار کھڑے ہو کر کہا:میں یہ کام انجام دوں گا۔ اور یوں عبدالملک مروان نے حجّاج کے لئے عراق کی حکومت کا حکم نامہ لکھ کر دیا۔
حجّاج اپنی فوج کے ساتھ شام سے کوفہ کی طرف روانہ ہوا۔جب وہ قادسیہ کے مقام پر پہنچا تو اس نے فوج کو روک لیا اور خود اکیلا کوفہ میں داخل ہوا،اور اعلان کیا کہ لوگ نماز کے لئے مسجد میں جمع ہوں۔اس وقت حجّاج چہرہ ڈھانپ کر منبر پر بیٹھ گیا اور کچھ دیر خاموش رہا و اور خاموشی سے لوگوں کو دیکھتا رہا ۔کسی نے کہا: شاید وہ گونگا ہے۔دوسرے نے کہا: یہ جاہل ہے، جو کچھ نہیں جانتا،ہر کوئی کچھ نہ کچھ کہہ رہا تھا۔اتنے میں اچانک سے حجّاج نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹایا ،منبر پر کھڑا ہوا،عمامہ اتارا،اور پھر حمد و ثنا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر درود کے بغیر گفتگو کا آغاز کیا اور کہا : اے کوفہ کے لوگو!میرا کام واضح ہے اور میں اوپر سے دیکھ رہا ہوں۔خدا کی قسم! میں دیکھ رہا ہوں کہ آنکھیں خیرہ ہیں ، گردنیں اکڑی ہوئی ہیں، اور سر اٹھے ہوئے ہیں، اور اب وقت آ چکا ہے کہ وہ کٹ جائیں، اور یہ میرا کام ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ خون عماموں اور داڑھیوں کے درمیان بہہ رہا ہے۔امیرالمؤمنین (عبدالملک) نے اپنی تیر اندازی کر دی اور مجھے سب سے زیادہ تلخ، تیز اور مضبوط پایا ہے۔اگر تم سیدھے رہے تو تمہارا کام بھی سیدھا چلتا رہے گا اور اگر تم نے میرا راستہ روکنا چاہا تو مجھے ہر کمین گاہ پر چوکس پاؤ گے۔خدا کی قسم!میں تمہارے گناہوں کو معاف نہیں کروں گا اور تمہارے بہانوں کو قبول نہیں کروں گا۔
اے عراق کے لوگو! اے اہل شقاق و نفاق اور برے اخلاق والو! خدا کی قسم !میں تمہیں لکڑی کی طرح سیدھا کر دوں گا ،اونٹ کی طرح تم پر کوڑے برساؤں گا اور پتھر کی طرح توڑ دوں گا۔
اے اہلِ عراق! ایک مدت سے تم گمراہی میں مبتلا ہو اور جہالت میں پڑے ہو! اے عصا کے غلامو!اور کنیزوں کے بچو! میں حجّاج ابن یوسف ہوں۔
حجّاج نے کچھ ایسی باتیں کیں اور پھر اپنے کلام کو جاری رکھتے ہوئے کہا:میں اپنی تلوار کو غلاف سے نکال چکا ہوں اور میں سردیوں اور گرمیوں میں اسے دوبارہ غلاف میں نہیں رکھوں گا۔ امیر المؤمنین ! (عبدالملک) نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں مسلسل تنبیہ کروں اور تمہیں مهلّب[6] کی مدد کے لئے روانہ کروں تا کہ تم دشمنوں سے جنگ کرو ۔ تمہیں تین دن کی مہلت دیتا ہوں کہ تیار ہو جاؤ، اور اس کے بعد جو بھی مجھے یہاں ملے گا، میں اس کی گردن اڑا دوں گا اور اس کا مال لوٹ لوں گا۔ اے غلام! امیر المومنین کا خط پڑھ۔حجّاج کے غلام نے خط لیا اور پڑھنا شروع کیا۔
بسم الله الرّحمن الرّحيم
خدا کے بندے، عبدالملک بن مروان، امیرالمؤمنین کی طرف سے، عراق کے مسلمانوں اور مؤمنوں کی جانب! تم پر سلام ہو۔ میں تمہارے ساتھ خدا کی حمد کرتا ہوں۔
اس موقع پر حجّاج نے اپنے غلام سے کہا: خاموش ہو جاؤ۔پھر وہ لوگوں سے مخاطب ہوا اور کہا: اے عراق کے لوگو! اے اہل نفاق! اے تفرقہ اور گمراہی کے پیروکارو! امیرالمؤمنین نے تمہیں سلام کیا ہے ، اور تم اس کا جواب نہیں دے رہے؟ خدا کی قسم! اگر میں یہاں ٹھہرا رہا تو تمہیں لکڑی کی طرح تمہاری کھال اتار دوں گا اور تمہیں ضرور ادب سکھاؤں گا۔ اے غلام! خط کو دوبارہ شروع سے پڑھو۔
غلام نے دوبارہ خط پڑھنا شروع کیا، اور جب سلام کے حصے پر پہنچا تو سب لوگوں نے با آواز بلند کہا:
امیرالمؤمنین پر خدا کا سلام، رحمت اور برکتیں ہوں!پھر حجّاج منبر سے نیچے اترا اور لوگ گھبرا کر مہلب بن ابی صفرہ کی طرف روانگی کے لئے تیاری کرنے لگے۔ تیسرے دن حجّاج نے کوفہ کے سپاہیوں کا معائنہ کیا۔
عمیر بن ضابی تمیمی، جو کوفہ کے اشراف میں سے اور ایک ضعیف عمر شخص تھا، آگے بڑھا اور کہا: خدا امیر کو صلاح و فلاح عطا کرے، میں ایک بوڑھا، ضعیف اور کمزور شخص ہوں، میرے کئی بیٹے ہیں، آپ چاہیں تو ان میں سے کسی کو میری جگہ لے جائیں۔‘‘
حجّاج نے جواب دیا: بوڑھے کی جگہ جوان کے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
عمیر واپس چلا گیا۔اسی وقت عتبہ بن سعید اور مالک بن اسماء نے حجّاج سے کہا:کیا تم اس شخص کو پہچانتے تھے؟
حجّاج نے کہا:نہیں۔
انہوں نے کہا: یہ وہی شخص ہے کہ جب امیرالمؤمنین عثمان قتل ہو گئے تو اس نے ان کے جسم پر چھلانگ لگا کر اس کی ایک پسلی توڑ دی تھی۔
حجّاج نے کہا: "اسے لاؤ، اسے فوراً لاؤ۔
جب اسے لایا گیا تو حجّاج نے کہا:اے بوڑھے! کیا تو ہی وہ شخص ہے جس نے امیرالمؤمنین عثمان کے قتل کے بعد ان کے جسم پر چڑھ کر ان کی پسلی توڑی تھی؟
اس نے جواب دیا:اس نے (عثمان نے) میرے بوڑھے باپ کو قید کر رکھا تھا اور اسے اس وقت تک رہا نہ کیا، جب تک وہ قید میں مر نہ گیا۔
حجّاج نے کہا: تم خود امیرالمؤمنین (عثمان) کے خلاف جنگ کرنے گئے لیکن خوارج کے خلاف لڑنے کے لئے اپنی جگہ کسی اور کو بھیجنا چاہتے ہو؟ خدا کی قسم، اے بوڑھے! تیری موت بصرہ اور کوفہ دونوں کی کے لئے بہتر ہے ۔ اس دوران حجّاج اپنی داڑھی چبا رہا تھا، اس نے اپنے غلام کو بلایا اور کہا:اس کا سر قلم کر دو۔اور غلام نے اس کا سر قلم کر دیا ۔
جب لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو وہ اتنی تیزی سے مہلب کی طرف روانہ ہوئے کہ ان کا فرات کے پل سے گزرنا مشکل ہو گیا تھا، یہاں تک کہ کچھ لوگ دریا میں گر گئے۔ پل کا محافظ حجّاج کے پاس آیا اور کہا: اے امیر! کچھ لوگ دریا میں گر گئے ہیں۔
حجّاج نے پوچھا:کیوں؟
محافظ نے کہا: لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے۔
حجّاج نے کہا:چلو جاؤ اور دوسرا پل بند کر دو۔
جب لوگوں کا ہجوم مہلب کی طرف بڑھنے لگا اور گروہ در گروہ اس سے جڑنے کی جلدی کرنے لگے تو مہلب نے پوچھا:کون عراق کا حکمران بن گیا ہے؟خدا کی قسم! وہ ایک بہادر مرد ہے، انشاء اللہ دشمن کی حالت خراب ہو جائے گی۔[7]
ہم نے یہ واقعہ اس لئے نقل کیا تاکہ معلوم ہو جائے کہ لوگ کیسے دنیا کے ظالموں اور جابر حکمرانوں کو حکومت تک پہنچانے کے لئے زمینہ ساز بنتے ہیں۔
[1] ۔نہج البلاغہ : خطبہ :۱۱۶.
[2] ۔ قبیلۂ ثقيف؛ مکہ کے جنوب یعنی شہر طائف میں مقیم تھا۔ اس قبیلہ میں’’لات ‘‘ نامی مشہور بت کی پرستش کی جاتی تھی۔ بنی ثقيف نے بڑی مشکل سے اسلام قبول کیا۔
[3] ۔ مروج الذهب، علی بن الحسین مسعودى، ترجمه ابوالقاسم پاينده: ۲/ ۱۲۹.
[4] ۔ قوم اود کی اکثریت حضرت علی علیہ السلام کی شدید دشمن اور کینہ توز تھی،اس کے برعکس یمن سے تعلق رکھنے والا قبیلہ ہمدان میں اکثریت امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے محبّوں کی تھی۔
[5] ۔ مروج الذهب مسعودى، ترجمه پاينده: ۲ /۱۴۶ -۱۴۷.
[6] ۔ اس وقت بصرہ خوارج کے ازارَقہ گروہ کے قبضے میں تھا اور عبدالملک نے مہلب بن ابی صفرہ کو ان سے جنگ کے لئے بھیجا تھا.
[7] ۔ مروج الذهب:۲ /۱۳۱ -۱۳۴، پيشگويى هاى اميرالمؤمنين علیه السلام :۳۶۴.








