حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
ظہور کے مسئلہ کی شناخت و معرفت

ظہور کے مسئلہ کی شناخت و معرفت

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جس طرح اہلبیت علیہم السلام کے محبوں نے ان کے زمانۂ حضور میں ان عظیم ہستیوں کی نصرت کرنے سے غفلت برتی ، اسی طرح وہ غیبت کے سیاہ دور میں بھی امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی بنسبت اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے سے غافل ہیں اور امام زمانہ ارواحنا فداہ کی نصرت کے لئے نہیں بڑھ رہے ۔

یقینی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس مہلک غفلت کے کچھ علل و اسباب ہیں ۔ ہم ان میں سے دو اسباب بیان کرتے ہیں :

ظہور کے مسئلہ کی معرفت ، آگاہی اور شناخت یا معرفت نہ ہونے کے لحاظ سے انسانوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :

۱ ۔ پہلا گروہ وہ ہے جو ظہور کے مسئلہ عظمت اور کائنات کی تسخیر سے آگاہ ہے اور اس بنیادی و حیاتی مسئلہ کو شناخت و معرفت کی نظر سے دیکھتا ہے ؛ لیکن اس گروہ کی تعداد بہت کم ہے ۔

۲ ۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عالمی حکومت کے انتظار کی معرفت اور اسے درک کرنے سے غافل ہے اور وہ اس عظیم امر کے بارے میں کوئی معرفت نہیں رکھتا !

لیکن افسوس ہے کہ اکثر و بیشتر افراد کی جو ذمہ داری تھی اور ہے ، وہ ظہور کے مسئلہ کی صحیح معرفت اور مکمل شناخت نہیں رکھتے ۔

پوری تاریخ میں اس حقیقت کے مختلف عوامل ہیں ؛ ہم یہاں تین اہم عوامل کو بیان کرتے ہیں :

مراجعین : 621