حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
ولایت تکوینی اهلبیت علیهم السلام اور اهل سنت کے کمزور نظریات

ولایت تکوینی اهلبیت علیهم السلام  اور  اهل سنت کے کمزور نظریات

اہلسنّت و الجماعت کی کمزوریوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے بعض علماء نے اپنی ایک کتاب’’ فضائح الروافض ‘‘ میں کہا ہے کہ شیعہ ’’مفوّضہ‘‘ ہیں؛ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ خدا قیامت کے دن بعض امور حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے سپرد کر دے گا، اور اسی وجہ سے انہیں’’قسیم الجنّة والنار‘‘ کہا جاتا ہے۔

حالانکہ خداوندِ عالم فرماتا ہے:’’يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ‘‘[1]میں جسے چاہوں عذاب دیتا ہوں اور جسے چاہوں بخش دیتا ہوں۔

رافضی کہتا ہے: علی علیہ السلام چنین و چنان کریں گے، ابوبکر، عمر اور ان کے پیروکاروں کو دوزخ میں بھیج دیں گے، اور شہر ری کے موچیوں ، کلاہ گرانِ آوہ، جولاہانِ قم اور ورامین کے نادانوں کو جنت میں داخل کریں گے۔

جواب:  شیخ بزرگوار عبدالجلیل رازی نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ اگر مذکورہ معنی میں  تفویض باطل ہو تو اس سے بہت سے افعال اور احکامِ الٰہی پر اعتراض لازم آتا ہے؛ کیونکہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ خدا کے کچھ فرشتے دنیا اور قیامت میں ایسے ہیں کہ بندوں کے رزق کی تقسیم، مکلفین کے اعمال کا شمار، بارش کے قطروں کا حساب اور اس جیسے دیگر امور جن کے سپرد کئے گئے ہیں۔

اور اسی طرح بعض امور فرشتگانِ رحمت اور دوزخ کے داروغوں (زبانیہ) کے سپرد کئے گئے ہیں، اور دنیا میں شریعت اور کتاب انبیاء اور اولیاء کو تفویض کی گئی ہے ۔ پس یہ مجبر مدبّر  خدا کی عظمت اور سلطنت سے بے خبر ہے، اور گویا اس نے قرآنِ مجید کو پڑھا ہی نہیں کہ خداوندِ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں بڑے بڑے امور  ملائکہ، انبیاء، ائمہ اور علماء کے سپرد فرمائے ہیں، جیسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر وغیرہ ،اور ان میں سے کسی بھی چیز میں خداوندِ تعالیٰ کے ساتھ شرکت لازم نہیں آتی۔

ارزاق کو میکائیل تقسیم کرتا ہے، قطراتِ بارش کا حساب اسرافیل رکھتا ہے، اعمال کو کرام الکاتبین لکھتے ہیں، اور ارواح قبض کرنا عزرائیل کے حکم سے ہوتا ہے، اور تمام اہلِ اسلام کے نزدیک یہ امور  ثابت ہیں ، اور اس معنی میں کسی کا ’’مفوّض‘‘ ہونا لازم نہیں آتا جیسا کہ یہ جبری شخص گمان کرتا ہے۔

لیکن اگر صحیح حدیث کے مطابق  امیرالمؤمنین علیہ السلام کے حکم سے دوزخ کی آگ میں پھینکا جائے  کہ جس کی صحت پر سنّی اور شیعہ دونوں متفق ہیں ، تو پھر خدا کے ساتھ شرکت لازم آ جائے اور شیعہ مفوّضہ قرار پائیں !! اور  وہ شخص کیسے تصنیف کر سکتا ہے جو نہ اپنے فاسد مذہب سے واقف ہو اور نہ مسلمانوں کے درست مذہب سے آگاہ ہو، نہ عرف جانتا ہو، نہ شرع، نہ لغت اور نہ اشتقاق و معانی؛ یہاں تک کہ بغضِ مرتضیٰ علی علیہ السلام میں مبتلا ہو کر قلم کو ہذیان کے میدان میں دوڑاتا رہے  اور یہ بھی نہ سمجھے کہ کوئی ایسا بھی ہے جو اس کے بے بنیاد خیالات کو دلیل کے ذریعے باطل کر دے۔

جی ہاں !« يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ » کی رو سے یہ صحیح ہے که خدا عذاب دے گا لیکن  دوزخ میں زبانیه ہوں گے « لَوَّاحَةٌ لِلْبَشَرِ.عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ »[2]۔

خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے : خدا کے حکم سے فرشتے جہنم کا عذاب دیں گے ۔

لیکن جب یہ کام حضرتِ مرتضیٰ علیہ السلام کے حکم سے انجام پائیں اور اگر امیرالمؤمنین علی علیہ السلام قسیمُ النار ہوں تو پھر بھی  یہی حکم ہوگا۔ اور اگر انصاف سے کام لیں تو جان لیں گے کہ مفوّضہ دراصل یہی مجبر حضرات ہیں، جنہوں نے قرآنِ مجید کو عثمان کے سپرد کر دیا، اور امامت امت کے اختیار میں دے دی کہ جو سب سے بڑا رکن ہے، بلکہ امامت تو عمر کے اختیار میں دے  دی، اور شریعت کو فقہاء کے قیاس اور استحسان کے سپرد کر دیا، اور گویا خدا کو ان تین امور سے معزول کر دیا؛ پس حقیقت میں یہی لوگ مفوّضہ ہیں۔ لہٰذا اس مجبر کو چاہئے کہ دوسروں کو اپنے لقب سے نہ نوازے۔

لیکن اس نے یہ جو کہا ہے کہ شیعہ کہتے ہیں کہ علی علیہ السلام صحابہ اور تابعین کو دوزخ میں بھیجیں گے اور ری کے موچیوں اور دیگر شہروں کے لوگوں کو جنت میں داخل کریں گے کہ جن کے بارے میں اس نے بہت ہی توہین آمیز لہجہ اپنایا ہے، تو یہ ہرگز شیعہ کا مذہب نہیں ہے۔بلکہ علی علیہ السلام جنت میں اسی کو بھیجیں گے جس کے بارے میں خدا حکم دے گا  اور جو اہلِ توحید و عدل، نبوّت کا اقرار کرنے والا اور شریعت کا پیروکار ہو گا،چاہے وہ کسی بھی شہر کاہو اور  چاہئے کسی بھی پیشہ سے تعلق رکھتا ہو ۔ اور دوزخ میں ان لوگوں کو بھیجیں گے جو ان اصول و فروع کے منکر ہوں گے ، خواہ وہ ظاہری طور پر بڑے مرتبے والے اور معزز نظر آتے ہوں۔‘‘

’’ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ‘‘ [3]اور ’’إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ‘‘[4] کا تعلق شہر یا پیشہ سے نہیں ہے۔’’ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ‘‘ [5]انہیں ان کے اعمال کی جزا ملے گی ۔ [6]

 


[1] ۔ سورۂ مائدہ ، آیت :۴۰.

[2] ۔ سورۂ مدثر ، آیات: ۲۹ اور ۳۰.

[3] ۔ سورۂ حجرات ، آیت :۱۳.

[4] ۔ سورۂ  لقمان، آیت :۸.

[5] ۔ سورۂ  واقعہ، آیت :۲۴.

[6] ۔ کشکول امامت:۲/ ۱۴۶.

مراجعین : 7